یہ تیری یاد ہے
دور ویرانوں میں فصل بہار آئی ہے
اس کے ساتھ جو پھُوار آئی ہے
یہ تیری یاد ہے
یا میری فریاد ہے
کوہسار کی جھیل کنارے پھُول کھل رہے ہیں
یہ تیری یاد ہے
دور ویرانوں میں فصل بہار آئی ہے
اس کے ساتھ جو پھُوار آئی ہے
یہ تیری یاد ہے
یا میری فریاد ہے
کوہسار کی جھیل کنارے پھُول کھل رہے ہیں
کوئی مجھے بتائے کہ دن کی مسرت کہاں ہے
میں نے اپنے ہاتھوں کو مہندی سے رنگ لیا ہے
وہ کب آئے گا؟
جب وہ دور درازعلاقوں میں گھومتا ہے
تو میں مر جاتی ہوں
میرا دل ڈوب جاتا ہے
مجھ سے ملو، جلد ملو
میرے والدین نے انتہائی احتیاط اور محبت سے میری پرورش کی
ملازمائیں میرا بہت خیال رکھتی تھیں
میں نے یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ میرے خوابوں کا محل ٹوٹ جائے گا
کسی بھی معصوم نوجوان لڑکی کی جوانی میری طرح بے صلہ نہیں ہونی چاہیے
اب اس نظم کو بھی دیکھیں
میں نے راستے میں سارا دن کھو دیا
میرے دوست یہ جوانی سراسر نقصان ہے
میں نے راستے میں سارا دن کھو دیا
ہم کیوں پیدا ہوئے؟
ہم مر کیوں نہ گئے؟
ہمیں روز حساب کا انتظار کرنا چاہیے
میں سرِ کوہ چاند ہوں اٹکا ہوا
تیری آنکھ کہاں لگی ہے
میں پل بھر ہوں، سرک جاؤں گی
محبوب! تجھ پر میں سر فدا کروں
حبہ خاتون
(کشمیری سے اردو زبان میں ترجمہ)
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں
لدے ہوئے پھولوں کے سبزہ زار
تُو نے سُنی بھی میرے دل کی پکار
ڈوب گئیں پھولوں میں یکسر
میرے دیس کی جھیلیں اور کہسار
آ، سہیلی پانی بھرنے جائیں
دنیا نیند اور خواب میں ہے
میں تیرے جواب کے منتظر میں ہوں
اے میرے پھول جیسے محبوب! آ جا
حبہ خاتون
(کشمیری سے اردو زبان میں ترجمہ)
آج پھر کسی کی یاد آنے لگی
میں اپنے ہاتھوں میں مہندی رچانے لگی
میرے محبوب، میری محبت میں سرشار آ جا
دل کے ویرانوں میں بن کے بہار آ جا
آ بھی جا کہ دل میں بے کلی بے سبب رہتی ہے
آبھی جا کہ میری جاں! جاں بلب رہتی ہے