آؤ میرے پھولوں کے رسیا
دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں
لدے ہوئے پھولوں کے سبزہ زار
تُو نے سُنی بھی میرے دل کی پکار
ڈوب گئیں پھولوں میں یکسر
میرے دیس کی جھیلیں اور کہسار
آؤ لوٹیں جلوۂ حسنِ بہار
جنگل جنگل چھایا ہوا ہے
بید مشک کی خوشبووں کا خمار
تُو نے سُنی بھی میرے دل کی پکار
قدم قدم گلزار کھلائیں
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
آؤ چلیں ہم چنیں چنبیلی
موت کے بعد ہے اللہ بیلی
راہ تکوں میں بیٹھ اکیلی
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
آؤ چلیں باندھے گلدستے
کیوں روٹھے ہو ساجن ہم سے
دور دیس میں کیا سُکھ لو گے
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
آؤ چلیں ہم کاہو توڑیں
دنیا والے تہمت جوڑیں
لیکھ کی دھارا کیسے موڑیں
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
آؤ چلیں ہم ندی کنارے
مست پڑے ہیں نیند کے مارے
بیٹھی ہوں سندیس سہارے
آؤ میرے پھولوں کے رسیا
حبہ خاتون
(کشمیری سے اردو زبان میں ترجمہ)
No comments:
Post a Comment