ایسا کون آ گیا ہے گاؤں میں
دھوپ سا ذائقہ ہے چھاؤں میں
میں کہ لندن کو چھوڑ آیا ہوں
عمر گزرے گی تیرے گاؤں میں
ہم نے مانگا بہار کا موسم
خوف آنے لگا خزاؤں میں
ہم کو غالب سے یہ بھی نسبت ہے
“ایک چکر ہے میرے پاؤں میں”
ہم نے سب سے یہی کہا امجد
یاد رکھنا ہمیں دعاؤں میں
امجد تجوانہ
No comments:
Post a Comment