Showing posts with label ارشد جمال صارم. Show all posts
Showing posts with label ارشد جمال صارم. Show all posts

Saturday, 19 March 2022

قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں

 قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں

یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں

رچا ہوا ہے عجب انجماد سانسوں میں

عجیب ساعتیں ہم پر حنوط کی گئی ہیں

لگا تھا دل پہ بصیرت کے پھول کاڑھیں گی

جو دستکاریاں پلکیں ہماری سی گئی ہیں

Thursday, 18 November 2021

میں پہلے کوچہ وحشت میں گھر بناتا ہوں

 میں پہلے کوچۂ وحشت میں گھر بناتا ہوں

پھر اپنے آپ کو آشفتہ سر بناتا ہوں

مِری ظلام پسندی کو کوسنے والو

میں اپنی ذات میں شمس و قمر بناتا ہوں

نہ جائیں نام نہادی پہ میری، یار مِرے

’میں جتنا نیک ہوں اتنا ہی شر بناتا ہوں‘

Friday, 12 November 2021

کاش یہ سوچتی پھرتی ہوئی افلاک پہ خاک

 کاش یہ سوچتی پھرتی ہوئی افلاک پہ خاک

اک نہ اک روز تو پڑ جانی ہے اس خاک پہ خاک

سوچتا ہوں، نہ اُبل آئے اسی راہ لہو

ڈالتا رہتا ہوں میں دیدۂ نم ناک پہ خاک

منحرف اپنی ہی تقویم سے یوں ہے انساں

خاک پوشاک کو معیوب یے پوشاک پہ خاک

Monday, 8 November 2021

کوچۂ عشق ترا طور نبھا بھی نہ سکوں

 کوچۂ عشق تِرا طور نِبھا بھی نہ سکوں

نہیں ایسا بھی کہ میں جان سے جا بھی نہ سکوں

زیست کے ہاتھوں مقید ہوا یوں طائرِ روح

قفسِ خاک سے چاہوں تو چُھڑا بھی نہ سکوں

یاد رکھنے کا نہیں پاس مِرے کوئی جواز

اور مجبور ہوں اتنا کہ بُھلا بھی نہ سکوں

Sunday, 7 November 2021

دہر کی تسخیر کا تو حوصلہ رکھتا ہوں میں

 دہر کی تسخیر کا تو حوصلہ رکھتا ہوں میں

کیا ہوا جو راہ الفت میں تن تنہا ہوں میں

دل کی موجوں میں بپا کر کے تلاطم خیزیاں

اپنے اندر کی زمینیں کاٹتا رہتا ہوں میں

اورتھوڑی سی رفاقت، بحر کر دیتی مجھے

ربط تجھ سے قطع کر کے صرف اک دریا ہوں میں

Tuesday, 15 June 2021

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا

 دو چار ستارے ہی مِری آنکھ میں دھر جا

کچھ دیر تو اے ساعتِ شب مجھ میں ٹھہر جا

اب اور سنبھالی نہیں جاتی تِری حُرمت

یوں کر غم جاناں میری نظروں سے اُتر جا

تا عمر تِرا نقش فروزاں رہے مجھ میں

اک زخم کی صورت مِرے ماتھے پہ اُبھر جا