قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں
یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں
رچا ہوا ہے عجب انجماد سانسوں میں
عجیب ساعتیں ہم پر حنوط کی گئی ہیں
لگا تھا دل پہ بصیرت کے پھول کاڑھیں گی
جو دستکاریاں پلکیں ہماری سی گئی ہیں
قبائے روح سے ریشم ادھیڑتی گئی ہیں
یہ کیا ہوائیں گزرتی ہوئی ابھی گئی ہیں
رچا ہوا ہے عجب انجماد سانسوں میں
عجیب ساعتیں ہم پر حنوط کی گئی ہیں
لگا تھا دل پہ بصیرت کے پھول کاڑھیں گی
جو دستکاریاں پلکیں ہماری سی گئی ہیں
میں پہلے کوچۂ وحشت میں گھر بناتا ہوں
پھر اپنے آپ کو آشفتہ سر بناتا ہوں
مِری ظلام پسندی کو کوسنے والو
میں اپنی ذات میں شمس و قمر بناتا ہوں
نہ جائیں نام نہادی پہ میری، یار مِرے
’میں جتنا نیک ہوں اتنا ہی شر بناتا ہوں‘
کاش یہ سوچتی پھرتی ہوئی افلاک پہ خاک
اک نہ اک روز تو پڑ جانی ہے اس خاک پہ خاک
سوچتا ہوں، نہ اُبل آئے اسی راہ لہو
ڈالتا رہتا ہوں میں دیدۂ نم ناک پہ خاک
منحرف اپنی ہی تقویم سے یوں ہے انساں
خاک پوشاک کو معیوب یے پوشاک پہ خاک
کوچۂ عشق تِرا طور نِبھا بھی نہ سکوں
نہیں ایسا بھی کہ میں جان سے جا بھی نہ سکوں
زیست کے ہاتھوں مقید ہوا یوں طائرِ روح
قفسِ خاک سے چاہوں تو چُھڑا بھی نہ سکوں
یاد رکھنے کا نہیں پاس مِرے کوئی جواز
اور مجبور ہوں اتنا کہ بُھلا بھی نہ سکوں
دہر کی تسخیر کا تو حوصلہ رکھتا ہوں میں
کیا ہوا جو راہ الفت میں تن تنہا ہوں میں
دل کی موجوں میں بپا کر کے تلاطم خیزیاں
اپنے اندر کی زمینیں کاٹتا رہتا ہوں میں
اورتھوڑی سی رفاقت، بحر کر دیتی مجھے
ربط تجھ سے قطع کر کے صرف اک دریا ہوں میں
دو چار ستارے ہی مِری آنکھ میں دھر جا
کچھ دیر تو اے ساعتِ شب مجھ میں ٹھہر جا
اب اور سنبھالی نہیں جاتی تِری حُرمت
یوں کر غم جاناں میری نظروں سے اُتر جا
تا عمر تِرا نقش فروزاں رہے مجھ میں
اک زخم کی صورت مِرے ماتھے پہ اُبھر جا