میں پہلے کوچۂ وحشت میں گھر بناتا ہوں
پھر اپنے آپ کو آشفتہ سر بناتا ہوں
مِری ظلام پسندی کو کوسنے والو
میں اپنی ذات میں شمس و قمر بناتا ہوں
نہ جائیں نام نہادی پہ میری، یار مِرے
’میں جتنا نیک ہوں اتنا ہی شر بناتا ہوں‘
طریق کہنہ پہ چلنا مجھے نہیں منظور
سو اپنے واسطے راہِ دگر بناتا ہوں
کسی بھی شےکا گذر چاہتا نہیں مِرا دل
سو اپنی ذات کو اب میں کھنڈر بناتا ہوں
امام دین و سیاست نہ رنگ و نسل کا پیر
وجودِ خاکی کو اپنے بشر بناتا ہوں
کسی پہ کیوں بھلا صارم اب انحصار کروں
یدِ طلب کو میں دستِ ہنر بناتا ہوں
ارشد جمال صارم
No comments:
Post a Comment