دل ایک اجنبی سے ہمارا بہت لگا
ہنس کر ملا تو آنکھ کو پیارا بہت لگا
سورج مثال لوگوں کی بستی سے لوٹ کر
مجھ کو فلک پہ آخری تارا بہت لگا
کب عمر بھر کا ساتھ لکھا تھا نصیب میں
ملنا بھی اس کا ہم کو دوبارا بہت لگا
ہم کاروبارِ عشق میں لائے تھے ایک دل
لیکن اثاثہ اس میں تمہارا بہت لگا
حاصل تھی زندگی کو کہاں فرصتِ نظر
پل بھر تِری ہنسی کا نظارا بہت لگا
تھا اتنا مسخ چہرۂ دنیا، کہ پھر ہمیں
جھوٹے خلوص ہی کا سہارا بہت لگا
نرجس افروز زیدی
No comments:
Post a Comment