Thursday, 18 November 2021

دل ایک اجنبی سے ہمارا بہت لگا

 دل ایک اجنبی سے ہمارا بہت لگا

ہنس کر ملا تو آنکھ کو پیارا بہت لگا

سورج مثال لوگوں کی بستی سے لوٹ کر

مجھ کو فلک پہ آخری تارا بہت لگا

کب عمر بھر کا ساتھ لکھا تھا نصیب میں

ملنا بھی اس کا ہم کو دوبارا بہت لگا

ہم کاروبارِ عشق میں لائے تھے ایک دل

لیکن اثاثہ اس میں تمہارا بہت لگا

حاصل تھی زندگی کو کہاں فرصتِ نظر

پل بھر تِری ہنسی کا نظارا بہت لگا

تھا اتنا مسخ چہرۂ دنیا، کہ پھر ہمیں

جھوٹے خلوص ہی کا سہارا بہت لگا


نرجس افروز زیدی

No comments:

Post a Comment