آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو
اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا
حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا
مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو
اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو
آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں
شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا
حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا
مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا
ہمیں جن سے محبت تھی انہیں ہم سے شکایت تھی
کِیا ہم کو اگر رُسوا زمانے کی رعایت تھی
خدا نے بخش دی ہم کو زباں گویا بیاں گویا
مگر رُسوا نہیں کرتے بنا ہے گلستاں گویا
ظلم کتنے کئے مجھ پر مگر اُف تک نہیں کرتے
تجھے ہم پاسباں کرتے اگر اوروں پہ نا مرتے
بے آسرا وطن
شفق ہے نُور سے پُر نم مگر پھر بھی لہو میں ضم
پھریں گے چار سُو میں ہم کہ بربادی پہ تیرے ہم
یہ دھرتی میرے جیون کی
ہمیشہ سے تھی شیون کی
بنی وادی بھنگیرن کی
سب خاک پڑا رہ جائے گا
جب راہگزر پہ ٹھہرو گے
پھر پاس ہمیں بلواؤ گے
ہم جان کو اپنی واریں گے
جب شعر تمہیں سنوائیں گے
ہم حال پریشاں بھائیں گے
صدائے حق
ہوش کیا حواس کیا
زندگی کے پاس کیا
یہ نشیب اور فراز
ہے نہیں اداس کیا
کوئی کیا حبیب ہے