Showing posts with label یاور حبیب. Show all posts
Showing posts with label یاور حبیب. Show all posts

Saturday, 1 October 2022

چل چلو وقت کے شاہ مرداں چلو

 آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں


چل چلو وقت کے شاہِ مرداں چلو

اے مِرے ہم نفس جانِ جاناں چلو

آؤ آزادی کا خواب بننے چلیں


شہ نشیں کا نشہ اب اترنے لگا

حاصلِ عمر کو وہ ترسنے لگا

مردہ دل میں کہیں دل دھڑکنے لگا

Friday, 30 September 2022

ہمیں جن سے محبت تھی انہیں ہم سے شکایت تھی

 ہمیں جن سے محبت تھی انہیں ہم سے شکایت تھی

کِیا ہم کو اگر رُسوا زمانے کی رعایت تھی

خدا نے بخش دی ہم کو زباں گویا بیاں گویا

مگر رُسوا نہیں کرتے بنا ہے گلستاں گویا

ظلم کتنے کئے مجھ پر مگر اُف تک نہیں کرتے

تجھے ہم پاسباں کرتے اگر اوروں پہ نا مرتے

Thursday, 29 September 2022

شفق ہے نور سے پر نم مگر پھر بھی لہو میں ضم

 بے آسرا وطن


شفق ہے نُور سے پُر نم مگر پھر بھی لہو میں ضم

پھریں گے چار سُو میں ہم کہ بربادی پہ تیرے ہم

یہ دھرتی میرے جیون کی

ہمیشہ سے تھی شیون کی

بنی وادی بھنگیرن کی

Sunday, 20 February 2022

سب خاک پڑا رہ جائے گا

 سب خاک پڑا رہ جائے گا


جب راہگزر پہ ٹھہرو گے

پھر پاس ہمیں بلواؤ گے

ہم جان کو اپنی واریں گے

جب شعر تمہیں سنوائیں گے

ہم حال پریشاں بھائیں گے

Saturday, 19 February 2022

ہوش کیا حواس کیا زندگی کے پاس کیا

 صدائے حق


ہوش کیا حواس کیا

زندگی کے پاس کیا

یہ نشیب اور فراز

ہے نہیں اداس کیا

کوئی کیا حبیب ہے