Sunday, 20 February 2022

سب خاک پڑا رہ جائے گا

 سب خاک پڑا رہ جائے گا


جب راہگزر پہ ٹھہرو گے

پھر پاس ہمیں بلواؤ گے

ہم جان کو اپنی واریں گے

جب شعر تمہیں سنوائیں گے

ہم حال پریشاں بھائیں گے

احوال ہمارے جانو گے

تو درد کا مارا مانو گے

اس جان گسل کا کیا کہنا

جو زندہ رزم سا لگتا ہے

سب نقش مٹاتے چلتے ہیں

اک روز جنہیں مٹ جانا ہے

یہ عشق کی باتیں چھوڑو اب

یہ رشک قمر اک دھوکہ ہے

اے فرد بشر اب سمجھو تم

پھر کون تمہیں سمجھائے گا

جب شور قیامت سن لو گے

کیا دُم دبا کر، تم بھاگو گے

یہ عالمِ آب و گل ہے کیا

جب صور کو پھونکا جائے گا

سب خاک پڑا رہ جائے گا

ہے عرشِ مکاں کا وعدہ یہ

اک روز کا جھٹکا ہونا ہے

یہ چاند، ستارے اور سورج

سب نقش زمیں ہو جائے گا

اے شہرِ غنیمت کے لوگو

سب رنگ نگر تب چیخیں گے

یہ موت، ہر شے کو آنی ہے

گو زندگی آنی و فانی ہے

اس موجِ نفس میں کیا دم ہے

اک موج ہوا ہے، اور کیا ہے

جب دم دما دم چلتی ہے یہ

آغوش کشا پھر ہوتی ہے

اور سنگدلوں کو باہوں میں

جب لیتی ہے تو لگتا ہے کہ

یہ موم کی مُورت جیسے ہیں

سب ایک ہی ماتھے کے جانب

یہ ڈوب کے مر ہی جاتے ہیں

ان نقشِ قدم پہ چلتے ہیں

وہ لوگ جنہیں مر جانا ہے


یاور حبیب ڈار

No comments:

Post a Comment