عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بس وہی انسان با توقیر ہے
جس کے دل میں الفت شبّیرؑ ہے
مدح سرورؑ میں ہماری شاعری
عشق کے قران کی تفسیر ہے
چشمِ ابراہیمؑ اور روئے حسینؑ
خواب ہے اور خواب کی تعبیر ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بس وہی انسان با توقیر ہے
جس کے دل میں الفت شبّیرؑ ہے
مدح سرورؑ میں ہماری شاعری
عشق کے قران کی تفسیر ہے
چشمِ ابراہیمؑ اور روئے حسینؑ
خواب ہے اور خواب کی تعبیر ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خطبوں سے علیؑ کے خالق کے فرمان کی خوشبو آتی ہے
جب نہج بلاغہ پڑھتا ہوں، قرآن کی خوشبو آتی ہے
قرآن کا ہر ایک پارہ ہے معمور علیؑ کی مدحت سے
ہر سورے سے ہر آیت سے عرفان کی خوشبو آتی ہے
یہ سچ ہے علیؑ کا چہرہ ہی اللہ کا چہرہ ہے، لیکن
چہرے کے پسینے سے خونِ عمران کی خوشبو آتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ساقی نامہ
وہ مئے پلا جو نازشِ آبِ زُلال ہے
کعبہ میں جس کا بیٹھ کے پینا حلال ہے
جو رنگ و بُو میں آپ ہی اپنی مثال ہے
وابستہ جس سے اہلِ سخن کا کمال ہے
قطروں میں جس کے جوشِ ولائے امیر ہے
قربان جس پر ساقیٔ بزمِ غدیر ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گود میں آمنہؑ کی آج نُور خدا ہے جلوہ گر
خانۂ عبد مُطلب رشک جناں ہے سر بسر
قلعۂ کفر و شرک کا نام جہاں سے مٹ گیا
ظلمت شب فنا ہوئی پھیلی تجلئی سحر
جس کی ہوئی ہے پرورش بنت اسد کی گود میں
کھیلنے کے لیے ملا وارث مُطلب کا گھر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت در مدح امام حسنؑ
صلح فرمائی حسنؑ نے اک نئے انداز کی
توڑ دی قوّت سیاست کے پرے پرواز کی
ہو گئی واضح حقیقت سلطنت کے راز کی
دھجّیاں کیا کیا اُڑیں دامانِ بدعت ساز کی
فکر خاطی شاملِ اسلام ہو سکتی نہیں
ایک ہے صلح حدیبۂ ہو یا صلح حسنؑ