مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں
کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں
اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے
مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں
میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی
کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں
مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں
کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں
اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے
مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں
میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی
کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں
آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے
مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے
سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی
مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے
ہر صبح چہچہاتی ہے چِڑیا منڈیر پر
ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے
اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے
اس سے کہنا کہ وہ آئے مِرا چہرہ دیکھے
اس سے کہنا مِرے چہرے سے یہ آنکھیں لے جائے
اس سے کہنا کہ کہاں تک کوئی رستہ دیکھے
میں نے دیکھا ہے سمندر میں اُترتا سُورج
اس سے کہنا کہ مشیّت کا اشارا دیکھے
زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں
یہ دل کا درد ہے، اس درد کو کہاں لے جاؤں
یہ دل عجیب سی اک کشمکش سے ہے دو چار
نتیجہ ایک سا ہو گا، اسے جہاں لے جاؤں
یہاں تو گُل بھی سماتے نہیں ان آنکھوں میں
بتا کہاں میں یہ چہرہ دھواں دھواں لے جاؤں
عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک
حسن کیا ہے بس یہی نا، زلف سے زنجیر تک
کون جانے کب سیاہی پھیل جائے آنکھ میں
اور ہوا لے جائے کاغذ سے مِری تحریر تک
زندگی جب ختم ہونے جارہی تھی تب کھلا
میں ہی میں پھیلا ہوا تھا خواب سے تعبیر تک
دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو
ڈس نہ لے ہم کو کہیں یہ خامشی باتیں کرو
آؤ پلکوں سے چُنیں بکھرے ہوئے لمحات کو
نیند آ جائے نہ جب تک خواب کی باتیں کرو
بس یہی لمحے غنیمت ہیں کہ ہم تم ساتھ ہیں
کون جانے مل بھی پائیں پھر کبھی باتیں کرو