Showing posts with label شمیم روش. Show all posts
Showing posts with label شمیم روش. Show all posts

Friday, 6 February 2026

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

 مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں 

اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے

مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں 

میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی

کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں 

Sunday, 9 May 2021

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

 آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے

سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی

مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے

ہر صبح چہچہاتی ہے چِڑیا منڈیر پر

ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے

Saturday, 8 May 2021

اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے

 اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے 

اس سے کہنا کہ وہ آئے مِرا چہرہ دیکھے 

اس سے کہنا مِرے چہرے سے یہ آنکھیں لے جائے 

اس سے کہنا کہ کہاں تک کوئی رستہ دیکھے 

میں نے دیکھا ہے سمندر میں اُترتا سُورج 

اس سے کہنا کہ مشیّت کا اشارا دیکھے 

زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں

 زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں

یہ دل کا درد ہے، اس درد کو کہاں لے جاؤں

یہ دل عجیب سی اک کشمکش سے ہے دو چار

نتیجہ ایک سا ہو گا، اسے جہاں لے جاؤں

یہاں تو گُل بھی سماتے نہیں ان آنکھوں میں

بتا کہاں میں یہ چہرہ دھواں دھواں لے جاؤں

Thursday, 22 April 2021

عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک

 عشق ہی پھیلا ہوا ہے رنگ سے تصویر تک

حسن کیا ہے بس یہی نا، زلف سے زنجیر تک

کون جانے کب سیاہی پھیل جائے آنکھ میں

اور ہوا لے جائے کاغذ سے مِری تحریر تک

زندگی جب ختم ہونے جارہی تھی تب کھلا

میں ہی میں پھیلا ہوا تھا خواب سے تعبیر تک

Wednesday, 21 April 2021

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

 دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

ڈس نہ لے ہم کو کہیں یہ خامشی باتیں کرو

آؤ پلکوں سے چُنیں بکھرے ہوئے لمحات کو

نیند آ جائے نہ جب تک خواب کی باتیں کرو

بس یہی لمحے غنیمت ہیں کہ ہم تم ساتھ ہیں

کون جانے مل بھی پائیں پھر کبھی باتیں کرو