Wednesday, 21 April 2021

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

 دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

ڈس نہ لے ہم کو کہیں یہ خامشی باتیں کرو

آؤ پلکوں سے چُنیں بکھرے ہوئے لمحات کو

نیند آ جائے نہ جب تک خواب کی باتیں کرو

بس یہی لمحے غنیمت ہیں کہ ہم تم ساتھ ہیں

کون جانے مل بھی پائیں پھر کبھی باتیں کرو

صرف اک کربِ مسلسل ہی ننہیں ہے زندگی

مختصر وقفے کی صورت ہے خوشی باتیں کرو

روح کے ناسور تو رِستے رہیں گے عمر بھر

درد میں آ جائے شاید کچھ کمی نباتیں کرو

کون جانے کل کا سورج دیکھ بھی پائیں گے ہم

جب تلک ہے رات باقی بس یوں ہی باتیں کرو

اس قدر خاموش رہنا بھی نہیں اچھا روش

چھا نہ جائے ذہن پر افسردگی باتیں کرو


شمیم روش

No comments:

Post a Comment