چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے
رنج تو رنج کے اظہار سے ہوتا ہے
یہ اندھیرا جو مِرے چاروں طرف پھیلا ہے
صرف اس شعلۂ رُخسار سے کم ہوتا ہے
سُننی ہوتی ہے مجھے زمزمہ آثار آواز
بولنا بھی تو مجھے یار سے کم ہوتا ہے
اس لیے چھوڑ کے سب کام تِری سمت آؤں
درد دل کا تِرے دیدار سے کم ہوتا ہے
بات کرنے کے لیے کوئی تو ہوتا ہے حنیف
خوف کچھ تو در و دیوار سے کم ہوتا ہے
محمد حنیف
No comments:
Post a Comment