Wednesday, 21 April 2021

چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے

 چھوڑ دینے سے نہ انکار سے کم ہوتا ہے

رنج تو رنج کے اظہار سے ہوتا ہے

یہ اندھیرا جو مِرے چاروں طرف پھیلا ہے

صرف اس شعلۂ رُخسار سے کم ہوتا ہے

سُننی ہوتی ہے مجھے زمزمہ آثار آواز

بولنا بھی تو مجھے یار سے کم ہوتا ہے

اس لیے چھوڑ کے سب کام تِری سمت آؤں

درد دل کا تِرے دیدار سے کم ہوتا ہے

بات کرنے کے لیے کوئی تو ہوتا ہے حنیف

خوف کچھ تو در و دیوار سے کم ہوتا ہے​


محمد حنیف

No comments:

Post a Comment