درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں
دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں
ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے
تجھ سے بچھڑیں نہ کسی اور ٹھکانے جائیں
اپنی دیوار انا آپ ہی کر کے مسمار
اپنے رُوٹھوں کو چلو آج منانے جائیں
درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں
دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں
ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے
تجھ سے بچھڑیں نہ کسی اور ٹھکانے جائیں
اپنی دیوار انا آپ ہی کر کے مسمار
اپنے رُوٹھوں کو چلو آج منانے جائیں
ماؤں کے عالمی دن پر
ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے
گھٹنوں کی پیڑا میں جاگ کے سونے والی ماں
انسلن کی گولی سے خوش ہونے والی ماں
سلوٹی ہاتھوں سے کپڑوں کو دھونے والی ماں
پاپا کی اک ڈانٹ سے گھٹ کر رونے والی ماں
بچوں سے چھپ چھپ کر رونا کیسا ہوتا ہے
ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے
زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا
تیز آندھی تھی مقابل سو بکھر جانا تھا
وہ نہ تھا ترک تعلق پہ پشیمان تو پھر
تم کو بھی چاہیے یہ تھا کہ مکر جانا تھا
کیوں بھلا کچے مکانوں کا تمہیں آیا خیال
تم تو دریا تھے تمہیں تیز گزر جانا تھا
دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے
ایسا اس دنیا میں اک شخص ہمارا بھی ہے
جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں تِرے خواب اے جاں
اور نیندوں میں تیرا نام پکارا بھی ہے
وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی
بارہا ہم نے اسے ہنس کے گزارا بھی ہے
نا اہل کو مسند سے اٹھا کیوں نہ دیا جائے
یہ تخت کسی روز ہِلا کیوں نہ دیا جائے
موقع ہے تو پھر کیوں نہیں لی جائیں دوائیں
مزدور کا حق اس کو دِلا کیوں نہ دیا جائے
سنتے ہیں کہ اس شوخ کی یہ راہگزر ہے
اس راہ پہ پلکوں کو بچھا کیوں نہ دیا جائے
زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا
تم بھی بے وجہ جی رہی ہو کیا
میں تو مرجھا گیا ہوں اب کے برس
تم کہیں اب بھی کھل رہی ہو کیا
تم کو چھوکر چمکنے لگتا ہوں
تم کوئی نور کی بنی ہو کیا
مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے
پر تیرے یہاں رسمِ پذیرائی بھی کم ہے
ہاں تازہ گناہوں کے لیے دل بھی ہے بیتاب
اور پچھلے گناہوں کی سزا پائی بھی کم ہے
کچھ کارِ جہاں جاں کو زیادہ بھی لگے ہیں
کچھ اب کے برس یاد تری آئی بھی کم ہے
عجب لڑکی ہے وہ لڑکی
ہمیشہ روٹھ جاتی ہے
کہا کرتی ہے یہ مجھ سے
سنو جانوں محبت خوب کرتے ہو
مگر یہ کیسی ضد ہے
زباں سے کچھ نہیں کہتے