Showing posts with label ضیا ضمیر. Show all posts
Showing posts with label ضیا ضمیر. Show all posts

Monday, 25 September 2023

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں

 درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں

دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں

ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے

تجھ سے بچھڑیں نہ کسی اور ٹھکانے جائیں

اپنی دیوار انا آپ ہی کر کے مسمار

اپنے رُوٹھوں کو چلو آج منانے جائیں

Sunday, 14 May 2023

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے

 ماؤں کے عالمی دن پر

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


گھٹنوں کی پیڑا میں جاگ کے سونے والی ماں

انسلن کی گولی سے خوش ہونے والی ماں

سلوٹی ہاتھوں سے کپڑوں کو دھونے والی ماں

پاپا کی اک ڈانٹ سے گھٹ کر رونے والی ماں

بچوں سے چھپ چھپ کر رونا کیسا ہوتا ہے

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے

Sunday, 13 November 2022

زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا

 زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا 

تیز آندھی تھی مقابل سو بکھر جانا تھا 

وہ نہ تھا ترک تعلق پہ پشیمان تو پھر 

تم کو بھی چاہیے یہ تھا کہ مکر جانا تھا 

کیوں بھلا کچے مکانوں کا تمہیں آیا خیال 

تم تو دریا تھے تمہیں تیز گزر جانا تھا 

Friday, 8 January 2021

دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے

 دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے

ایسا اس دنیا میں اک شخص ہمارا بھی ہے

جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں تِرے خواب اے جاں

اور نیندوں میں تیرا نام پکارا بھی ہے

وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی

بارہا ہم نے اسے ہنس کے گزارا بھی ہے

Wednesday, 6 January 2021

نااہل کو مسند سے اٹھا کیوں نہ دیا جائے

 نا اہل کو مسند سے اٹھا کیوں نہ دیا جائے

یہ تخت کسی روز ہِلا کیوں نہ دیا جائے

موقع ہے تو پھر کیوں نہیں لی جائیں دوائیں

مزدور کا حق اس کو دِلا کیوں نہ دیا جائے

سنتے ہیں کہ اس شوخ کی یہ راہگزر ہے

اس راہ پہ پلکوں کو بچھا کیوں نہ دیا جائے

Monday, 28 December 2020

زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا

 زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا

تم بھی بے وجہ جی رہی ہو کیا

میں تو مرجھا گیا ہوں اب کے برس

تم کہیں اب بھی کھل رہی ہو کیا

تم کو چھوکر چمکنے لگتا ہوں

تم کوئی نور کی بنی ہو کیا

Sunday, 27 December 2020

مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے

 مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے

پر تیرے یہاں رسمِ پذیرائی بھی کم ہے

ہاں تازہ گناہوں کے لیے دل بھی ہے بیتاب

اور پچھلے گناہوں کی سزا پائی بھی کم ہے

کچھ کارِ جہاں جاں کو زیادہ بھی لگے ہیں

کچھ اب کے برس یاد تری آئی بھی کم ہے

Saturday, 26 December 2020

عجب لڑکی ہے وہ لڑکی ہمیشہ روٹھ جاتی ہے

 عجب لڑکی ہے وہ لڑکی

ہمیشہ روٹھ جاتی ہے

کہا کرتی ہے یہ مجھ سے

سنو جانوں محبت خوب کرتے ہو

مگر یہ کیسی ضد ہے

زباں سے کچھ نہیں کہتے

Saturday, 29 August 2020

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا، پکارا تھا کہاں
روکتے کس طرح وہ شخص ہمارا تھا کہاں
تھی کہاں ربط میں اس کے بھی کمی کوئی مگر
میں اسے پیارا تھا، پر جان سے پیارا تھا کہاں
بے سبب ہی نہیں مرجھائے تھے جذبوں کے گلاب
تُو نے چھو کر غمِ ہستی کو نکھارا تھا کہاں

راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر

راحتِ وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر
زندگی کیسے بسر ہو گی محبت کے بغیر
اب کے یہ سوچ کے بیمار پڑے ہیں کہ ہمیں
ٹھیک ہونا ہی نہیں تیری عیادت کے بغیر
عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں
تیرے کوچے میں چلے آۓ اجازت کے بغیر

Tuesday, 26 May 2020

جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے

جس طرح پیاسا کوئی آبِ رواں تک پہنچے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس کے مکاں تک پہنچے
"شرط اتنی تھی "محبت میں بدن تک پہنچو
ہم جنوں پیشہ مگر یار کی جاں تک پہنچے
تیری چوکھٹ پہ پلٹ آئے تِرے دیوانے
بے اماں یعنی اسی جائے اماں تک پہنچے

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں
دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں
ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے
تجھ سے بچھڑیں، نہ کسی اور ٹھکانے جائیں
اپنی دیوارِ انا آپ ہی کر کے مِسمار
اپنے روٹھوں کو چلو آج منانے جائیں

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے
اس کو پانے کا عجب دل میں جنوں ہے یوں ہے
عادتاً کرتا ہے وہ وعدہ خلافی پہلے
پھر بناتا ہے بہانے بھی کہ یوں ہے یوں ہے
مجھ کو معلوم ہے لوٹ آئے گا میری جانب
اس کے جانے پہ بھی اس دل میں سکوں ہے یوں ہے

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے
لفظ پیکر میں ڈھلے سوچ کے پہلو جاگے
دیکھیے کھلتا ہے اب کون سے احساس کا پھول
دیکھیے روح میں اب کون سی خوشبو جاگے
جانے کب میرے تھکے جسم کی جاگے قسمت
جانے کب یار تِرے لمس کا جادو جاگے