نا اہل کو مسند سے اٹھا کیوں نہ دیا جائے
یہ تخت کسی روز ہِلا کیوں نہ دیا جائے
موقع ہے تو پھر کیوں نہیں لی جائیں دوائیں
مزدور کا حق اس کو دِلا کیوں نہ دیا جائے
سنتے ہیں کہ اس شوخ کی یہ راہگزر ہے
اس راہ پہ پلکوں کو بچھا کیوں نہ دیا جائے
یہ لوگ جو فٹ پاتھ پہ غمگین پڑے ہیں
ان درد کے ماروں کو ہنسا کیوں نہ دیا جائے
جب اور کسی دل میں مکیں ہو گیا وہ شخص
اس شخص کو پھر دل سے بھلا کیوں نہ دیا جائے
لفظوں کو برتنے کا ہنر جس سے ملا ہے
وہ زخم زمانے کو دِکھا کیوں نہ دیا جائے
ضیا ضمیر
No comments:
Post a Comment