دِیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں
ہوا مزاج کو واپس بُلا رہی ہوں میں
مجھے کسی کے بھی جانے سے دُکھ نہیں ہوتا
نا جانے کس کے لیے آنسو بہا رہی ہوں میں
یہ تیری مرضی کہ واپس آئے نا آئے تُو
نظامِ دل کو تو دل سے چلا رہی ہوں میں
دِیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں
ہوا مزاج کو واپس بُلا رہی ہوں میں
مجھے کسی کے بھی جانے سے دُکھ نہیں ہوتا
نا جانے کس کے لیے آنسو بہا رہی ہوں میں
یہ تیری مرضی کہ واپس آئے نا آئے تُو
نظامِ دل کو تو دل سے چلا رہی ہوں میں
دیر سویر تو ہو جاتی ہے
دروازے پہ جو آنکھیں ہیں
آنکھوں میں جو سپنے ہیں
ان سپنوں میں جو مورت ہے
وہ میری ہے
دروازے کے باہر کیا ہے
اک رستہ ہے
اس جبیں پر جو بل پڑے شاید
یہ کلیجہ نکل پڑے شاید
سانس رکنے لگی ہے سینے میں
تم کہو تو یہ چل پڑے شاید
ضبط سے لال ہو گئیں آنکھیں
ایک چشمہ اُبل پڑے شاید
احساس
رات پلیٹ میں دکھ رکھا تھا
صبح کے کپ میں بے زاری تھی
شام چائے کے ساتھ پڑا تھا
دل کی صورت والا برفی کا اک ٹکڑا
آج مِرے کمرے میں پھر سے ہجر کی ٹیبل پر
جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے
دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے
لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر
دل تِرا احترام کرتا ہے
دن کہیں بھی گزار لے یہ دل
تیرے کوچے میں شام کرتا ہے
ورکنگ لیڈی
میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں
بہت سی چیزیں لاتی ہوں
اور ان چیزوں میں اکثر
خود کو رکھ کر بھول جاتی ہوں
پتا اس وقت چلتا ہے
کہ جب تکیے پہ رکھنے کو
تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر
نہ ملا ہم سا گر حسیں تو پھر
کون تیرا خیال رکھے گا
بعد میرے ہوا حزیں تو پھر
جس پہ تجھ کو غرور ہے وہ دل
کھو گیا گر یہیں کہیں تو پھر