Showing posts with label الماس شبی. Show all posts
Showing posts with label الماس شبی. Show all posts

Monday, 27 February 2023

دیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں

 دِیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں

ہوا مزاج کو واپس بُلا رہی ہوں میں

مجھے کسی کے بھی جانے سے دُکھ نہیں ہوتا

نا جانے کس کے لیے آنسو بہا رہی ہوں میں

یہ تیری مرضی کہ واپس آئے نا آئے تُو

نظامِ دل کو تو دل سے چلا رہی ہوں میں

Sunday, 26 September 2021

دروازے پہ جو آنکھیں ہیں آنکھوں میں جو سپنے ہیں

 دیر سویر تو ہو جاتی ہے


دروازے پہ جو آنکھیں ہیں

آنکھوں میں جو سپنے ہیں

ان سپنوں میں جو مورت ہے

وہ میری ہے

دروازے کے باہر کیا ہے

اک رستہ ہے

Thursday, 23 September 2021

اس جبیں پر جو بل پڑے شاید

 اس جبیں پر جو بل پڑے شاید

یہ کلیجہ نکل پڑے شاید

سانس رکنے لگی ہے سینے میں

تم کہو تو یہ چل پڑے شاید

ضبط سے لال ہو گئیں آنکھیں

ایک چشمہ اُبل پڑے شاید

Tuesday, 21 September 2021

احساس؛ رات پلیٹ میں دکھ رکھا تھا

 احساس


رات پلیٹ میں دکھ رکھا تھا

صبح کے کپ میں بے زاری تھی

شام چائے کے ساتھ پڑا تھا

دل کی صورت والا برفی کا اک ٹکڑا

آج مِرے کمرے میں پھر سے ہجر کی ٹیبل پر

جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے

 جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے

دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے 

لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر 

دل تِرا احترام کرتا ہے 

دن کہیں بھی گزار لے یہ دل 

تیرے کوچے میں شام کرتا ہے 

Monday, 20 September 2021

ورکنگ لیڈی میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں

 ورکنگ لیڈی


میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں

بہت سی چیزیں لاتی ہوں

اور ان چیزوں میں اکثر

خود کو رکھ کر بھول جاتی ہوں

پتا اس وقت چلتا ہے

کہ جب تکیے پہ رکھنے کو

Friday, 16 July 2021

تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر

 تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر

نہ ملا ہم سا گر حسیں تو پھر

کون تیرا خیال رکھے گا

بعد میرے ہوا حزیں تو پھر

جس پہ تجھ کو غرور ہے وہ دل

کھو گیا گر یہیں کہیں تو پھر