Tuesday, 21 September 2021

جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے

 جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے

دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے 

لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر 

دل تِرا احترام کرتا ہے 

دن کہیں بھی گزار لے یہ دل 

تیرے کوچے میں شام کرتا ہے 

ہاتھ تھاما. نہ حال ہی پوچھا 

یوں بھی کوئی سلام کرتا ہے

وہ فسوں کار اس قدر ہے شبی

بیٹھے بیٹھے غلام کرتا ہے


الماس شبی

No comments:

Post a Comment