لوگ نفرت کو جو نفرت سے مٹانے لگ جائیں
کوئی باقی نہ رہے، سبھی ٹھکانے لگ جائیں
آپ کے ظلم سے تنگ آ کے کسی دن مظلوم
اپنے ہاتھوں نہ کہیں جان گنوانے لگ جائیں
جو بتانی ہے ہمیں تم کو ذرا سی اک بات
راز بھی کم ہوں جو وہ بات بتانے لگ جائیں
لوگ نفرت کو جو نفرت سے مٹانے لگ جائیں
کوئی باقی نہ رہے، سبھی ٹھکانے لگ جائیں
آپ کے ظلم سے تنگ آ کے کسی دن مظلوم
اپنے ہاتھوں نہ کہیں جان گنوانے لگ جائیں
جو بتانی ہے ہمیں تم کو ذرا سی اک بات
راز بھی کم ہوں جو وہ بات بتانے لگ جائیں
کم سے کم ملنے تو آ سکتے تھے تم
سب گِلے شکوے مٹا سکتے تھے تم
دل میں ملنے کی تڑپ ہوتی اگر
کچھ بہانہ تو بنا سکتے تھے تم
جب خیالِ خام دل میں کچھ نہیں
بات مل کر بھی بتا سکتے تھے تم
حالِ دل پر مِرے نظر نہ ہوئی
لٹ گیا میں انہیں خبر نہ ہوئی
اپنے غم میں غزل میں کہتا گیا
لوگ کہتے ہیں بحر پر نہ ہوئی
منتظر تھا خدا مدد کے لیے
پر دعا ہم سے پر اثر نہ ہوئی
موت سر پر ہے مارنے کے لیے
بس خدا ہے پکارنے کے لیے
سب کو اونچائی سے تکبر کی
رب ہے کافی اتارنے کے لیے
آج فاتح جہاں کے کہتے ہیں
کچھ بچا ہی نہ ہارنے کے لیے
تِری یاد در کھٹکھٹانے لگی ہے
یہ کُٹیا مِری جگمگانے لگی ہے
اُسے شاعری سے لگاؤ نہیں پر
وہ غزلیں مِری گنگنانے لگی ہے
اِدھر سے بھی آواز دیتی ہے دنیا
اُدھر سے لحد بھی بلانے لگی ہے