Showing posts with label زبیر گوہر. Show all posts
Showing posts with label زبیر گوہر. Show all posts

Friday, 21 October 2022

لوگ نفرت کو جو نفرت سے مٹانے لگ جائیں

 لوگ نفرت کو جو نفرت سے مٹانے لگ جائیں

کوئی باقی نہ رہے، سبھی ٹھکانے لگ جائیں

آپ کے ظلم سے تنگ آ کے کسی دن مظلوم

اپنے ہاتھوں نہ کہیں جان گنوانے لگ جائیں

جو بتانی ہے ہمیں تم کو ذرا سی اک بات

راز بھی کم ہوں جو وہ بات بتانے لگ جائیں

Tuesday, 30 November 2021

کم سے کم ملنے تو آ سکتے تھے تم

 کم سے کم ملنے تو آ سکتے تھے تم

سب گِلے شکوے مٹا سکتے تھے تم

دل میں ملنے کی تڑپ ہوتی اگر

کچھ بہانہ تو بنا سکتے تھے تم

جب خیالِ خام دل میں کچھ نہیں

بات مل کر بھی بتا سکتے تھے تم

Monday, 29 November 2021

حال دل پر مرے نظر نہ ہوئی

 حالِ دل پر مِرے نظر نہ ہوئی

لٹ گیا میں انہیں خبر نہ ہوئی

اپنے غم میں غزل میں کہتا گیا

لوگ کہتے ہیں بحر پر نہ ہوئی

منتظر تھا خدا مدد کے لیے

پر دعا ہم سے پر اثر نہ ہوئی

Sunday, 28 November 2021

موت سر پر ہے مارنے کے لئے

 موت سر پر ہے مارنے کے لیے

بس خدا ہے پکارنے کے لیے

سب کو اونچائی سے تکبر کی

رب ہے کافی اتارنے کے لیے

آج فاتح جہاں کے کہتے ہیں

کچھ بچا ہی نہ ہارنے کے لیے

Saturday, 27 November 2021

تری یاد در کھٹکھٹانے لگی ہے

 تِری یاد در کھٹکھٹانے لگی ہے

یہ کُٹیا مِری جگمگانے لگی ہے

اُسے شاعری سے لگاؤ نہیں پر

وہ غزلیں مِری گنگنانے لگی ہے

اِدھر سے بھی آواز دیتی ہے دنیا

اُدھر سے لحد بھی بلانے لگی ہے