کسی سے رازِ محبت چھپا نہیں سکتے
تِرے نقوش کو دل سے مٹا نہیں سکتے
شجر ببول کا جس خاک میں نکل آئے
گلاب اس پہ کبھی ہم کھلا نہیں سکتے
تمہارا نام ہے لکھا یوں دل کی تختی پر
کبھی جو چاہیں مٹانا، مٹا نہیں سکتے
کسی سے رازِ محبت چھپا نہیں سکتے
تِرے نقوش کو دل سے مٹا نہیں سکتے
شجر ببول کا جس خاک میں نکل آئے
گلاب اس پہ کبھی ہم کھلا نہیں سکتے
تمہارا نام ہے لکھا یوں دل کی تختی پر
کبھی جو چاہیں مٹانا، مٹا نہیں سکتے
ساجد کی بِدائی ہے اب جشن منا ہمدم
اب شوق سے ماتھے پر سندور سجا ہمدم
دیدار ذرا مجھ کو اک بار کرا دے بس
پھر شوق سے مٹی میں مجھ کو تُو سُلا ہمدم
مجرم ہوں تِرا میں تو نظروں سے گِرانا کیا
دے ایسی سزا مجھ کو مل جائے قضا ہمدم
تم فسانہ نہیں حقیقت ہو
میرے دل کی تمہی تو چاہت ہو
کیا بتاؤں میں زندگی کا حساب
تم خوشی ہو، تمہی تو وحشت ہو
جب بھی بولوں تو خوں نکلتا ہے
ہجر میں یوں نہ تیری حالت ہو
یہ زندگی ہے مِری رب کی بندگی کے لیے
جبیں کو در پہ جھکایا ہوں بہتری کے لیے
ہیں آج جگ میں پریشاں وہ ہر جگہ دیکھو
جہاں میں بھیجا جنہیں رب نے سروری کے لیے
رگوں کے خون میں پنہاں ہے دیش کی الفت
لڑیں گے تم سے سدا امن و آشتی کے لیے
پیکرِ صِدق و وفا ملتا نہیں کوئی یہاں
ہر طرف آہ و بکا ہے اور ہیں مایوسیاں
بس اسی امید میں شام و سحر گزری مِری
اب گلستاں کو سنواریں گے وطن کے حکمراں
ظلم پر خاموش رہنا بزدلی کی ہے دلیل
کب تلک سل کر رکھو گے یار اپنی تم زباں