Showing posts with label انجم دربھنگوی. Show all posts
Showing posts with label انجم دربھنگوی. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

کسی سے راز محبت چھپا نہیں سکتے

 کسی سے رازِ محبت چھپا نہیں سکتے

تِرے نقوش کو دل سے مٹا نہیں سکتے

شجر ببول کا جس خاک میں نکل آئے 

گلاب اس پہ کبھی ہم کھلا نہیں سکتے

تمہارا نام ہے لکھا یوں دل کی تختی پر

کبھی جو چاہیں مٹانا، مٹا نہیں سکتے

Saturday, 27 August 2022

ساجد کی بدائی ہے اب جشن منا ہمدم

 ساجد کی بِدائی ہے اب جشن منا ہمدم

اب شوق سے ماتھے پر سندور سجا ہمدم

دیدار ذرا مجھ کو اک بار کرا دے بس

پھر شوق سے مٹی میں مجھ کو تُو سُلا ہمدم

مجرم ہوں تِرا میں تو نظروں سے گِرانا کیا

دے ایسی سزا مجھ کو مل جائے قضا ہمدم

Friday, 26 August 2022

تم فسانہ نہیں حقیقت ہو

 تم فسانہ نہیں حقیقت ہو

میرے دل کی تمہی تو چاہت ہو

کیا بتاؤں میں زندگی کا حساب

تم خوشی ہو، تمہی تو وحشت ہو

جب بھی بولوں تو خوں نکلتا ہے

ہجر میں یوں نہ تیری حالت ہو

Wednesday, 24 August 2022

یہ زندگی ہے مری رب کی بندگی کے لیے

یہ زندگی ہے مِری رب کی بندگی کے لیے

جبیں کو در پہ جھکایا ہوں بہتری کے لیے

ہیں آج جگ میں پریشاں وہ ہر جگہ دیکھو

جہاں میں بھیجا جنہیں رب نے سروری کے لیے

رگوں کے خون میں پنہاں ہے دیش کی الفت

لڑیں گے تم سے سدا امن و آشتی کے لیے

Saturday, 19 February 2022

پیکر صدق و وفا ملتا نہیں کوئی یہاں

 پیکرِ صِدق و وفا ملتا نہیں کوئی یہاں

ہر طرف آہ و بکا ہے اور ہیں مایوسیاں

بس اسی امید میں شام و سحر گزری مِری 

اب گلستاں کو سنواریں گے وطن کے حکمراں

ظلم پر خاموش رہنا بزدلی کی ہے دلیل 

کب تلک سل کر رکھو گے یار اپنی تم زباں