پیکرِ صِدق و وفا ملتا نہیں کوئی یہاں
ہر طرف آہ و بکا ہے اور ہیں مایوسیاں
بس اسی امید میں شام و سحر گزری مِری
اب گلستاں کو سنواریں گے وطن کے حکمراں
ظلم پر خاموش رہنا بزدلی کی ہے دلیل
کب تلک سل کر رکھو گے یار اپنی تم زباں
لٹ رہیں ہیں عصمتیں بہنوں کی دیکھو چار سُو
خواب سے بیدار ہو جا قوم کے تو اب جواں
باندھ کر سر پہ کفن میداں میں آؤ پھر ذرا
آج پھر خطرے میں انجم ہے یہ پیارا گلستاں
ساجد انجم دربھنگوی
No comments:
Post a Comment