Showing posts with label وسیم بریلوی. Show all posts
Showing posts with label وسیم بریلوی. Show all posts

Thursday, 10 August 2023

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے

 جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے

کوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے

مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتا

کہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے

بچھڑ کے تجھ سے کچھ جانا اگر تو اس قدر جانا

وہ مٹی ہوں جسے دریا کنارے چھوڑ دیتا ہے

Friday, 30 September 2022

حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں

 حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں

زلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں

تم نے میرے گھر نہ آنے کی قسم کھائی تو ہے

آنسوؤں سے بھی کہو آنکھوں میں آنا چھوڑ دیں

پیار کے دشمن کبھی تو پیار سے کہہ کے تو دیکھ

ایک تیرا در ہی کیا ہم تو زمانہ چھوڑ دیں

Thursday, 28 April 2022

نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا

 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا 

ہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا 

جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک 

تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا 

نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح 

ہمیں یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا 

Tuesday, 12 April 2022

کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھے

 کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھے

آج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیں

میں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوں

سچ پوچھو تو مجھ سا پریشاں کوئی نہیں

کیسے کیسے خواب بنے تھے آنکھوں نے

آج بھی ان خوابوں سا ارزاں کوئی نہیں

Sunday, 3 April 2022

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

 تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

اسی لیے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے

محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے

یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے

جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا

انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے

Wednesday, 9 February 2022

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

 دُکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا 

تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا 

پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک 

کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا 

میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا 

اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا 

Monday, 3 May 2021

کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی

 کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی

تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی

کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں

پھُول ہونا ہی نہیں پھُول نظر آنا بھی

دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی

بھُول جائے گا یہ اک دن تِرا یاد آنا بھی

Saturday, 19 December 2020

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا

 کیا بتاؤں؟ کیسا خود کو در بدر میں نے کیا

عمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیا

تُو تو نفرت بھی نہ کر پائے گا اس شدت کے ساتھ

جس بلا کا پیار تجھ سے بے خبر میں نے کیا

کیسے بچوں کو بتاؤں؟ راستوں کے پیچ و خم

زندگی بھر تو کتابوں کا سفر میں نے کیا

Thursday, 22 October 2020

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے

 بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے

ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے

ہمیں نے کر دیا اعلانِ گمرہی، ورنہ

ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے

انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے

یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے

Saturday, 17 October 2020

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے

 میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے 

وقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے 

بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں 

لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے 

آنکھیں منظر ہوئیں کان نغمہ ہوئے 

گھر کے انداز ہی گھر سے جاتے رہے 

حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی

 حویلیوں میں مِری تربیت نہیں ہوتی

تو آج سر پہ ٹپکنے کو چھت نہیں ہوتی

ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل

اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی

چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا

ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی

Tuesday, 13 October 2020

تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

 تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا

تو میری آنکھ میں آنسو نظر نہ آئے گا

یہ زندگی کا مسافر یہ بے وفا لمحہ

چلا گیا تو کبھی لوٹ کر نہ آئے گا

بنیں گے اونچے مکانوں میں بیٹھ کر نقشے

تو اپنے حصے میں مٹی کا گھر نہ آئے گا

Sunday, 11 October 2020

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے

 چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے 

تُو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہے 

اس کی یادوں نے اگا رکھے ہیں سورج اتنے 

شام کا وقت بھی آئے تو سحر لگتا ہے 

ایک منظر پہ ٹھہرنے نہیں دیتی فطرت 

عمر بھر آنکھ کی قسمت میں سفر لگتا ہے

Saturday, 10 October 2020

یہی بزم عیش ہو گی یہی دور جام ہو گا

 یہی بزم عیش ہو گی یہی دور جام ہو گا

مگر آج کا تصور یہاں کل حرام ہو گا 

میں کچھ اس طرح جیا ہوں کہ یقین ہو گیا ہے 

مِرے بعد زندگی کا بڑا احترام ہو گا 

مِری زیست اک جنازہ ہے جو راہ وقت میں ہے 

جو تھکیں گے دن کے کاندھے تو سپردِ شام ہو گا 

Tuesday, 6 October 2020

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے

 رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے

میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے

ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھر اسے چھوڑ دیا

اب نہ جائیں گے ادھر، چاہے زمانہ جائے

میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے

ہاتھ رکھ دے مِری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے

Friday, 25 September 2020

دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو

 دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو

وہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہو

جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے صدیوں سے

کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو

کوئی چراغ نہ آنسو نہ آرزوئے سحر

خدا کرے کہ کسی گھر میں ایسی شام نہ ہو

Thursday, 15 September 2016

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں 
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ٹھہرے 
کچھ پتا ہو تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں 
گھر کی گِرتی ہوئی دیوار ہے ہم سے اچھی 
راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے 
لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف
سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا 
اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
تم گِرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں 
میں گِرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر 
راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا

ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو

ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو
کہ میں زمین کے رشتوں سے کٹ گیا یارو
وہ بے خیال مسافر،۔۔ میں راستہ یارو
کہاں تھا بس میں مِرے اس کو روکنا یارو
مِرے قلم پہ زمانے کی گرد ایسی تھی
کہ اپنے بارے میں کچھ بھی نہ لکھ سکا یارو