Tuesday, 12 April 2022

کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھے

 کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھے

آج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیں

میں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوں

سچ پوچھو تو مجھ سا پریشاں کوئی نہیں

کیسے کیسے خواب بنے تھے آنکھوں نے

آج بھی ان خوابوں سا ارزاں کوئی نہیں

کل بھی میرے زخم بھنائے جاتے تھے

آج بھی میرے ہاتھ میں داماں کوئی نہیں

کل میرا نیلام کیا تھا غیروں نے

آج تو میرے اپنے بیچے دیتے ہیں

سچ پوچھو تو میری خطا بس اتنی ہے

میں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوں


وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment