Tuesday, 12 April 2022

سنا ہے زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں

سنا ہے زمیں پر

وہی لوگ ملتے ہیں جن کو

کبھی آسمانوں کے اس پار

روحوں کے میلے میں

اک دوسرے کی محبت ملی ہو

مگر تم

کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیروں میں

ہنستی ہوئی روشنی ہو

لہو میں رچی ہو

رگوں میں بسی ہو

ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں آوازِ جاں بن کے

چاروں طرف گونجتی ہو

اگر آسمانوں کے اس پار

روحوں کے میلے میں بھی مل چکی ہو

تو پھر اس زمیں پر

مِری چاہتوں کے کھلے موسموں سے گریزاں

مِری دھوپ چھاؤں سے کیوں اجنبی ہو

کتابوں میں لکھی ہوئی

اور کانوں سنی

ساری باتیں غلط ہیں

کہ تم دوسری ہو


محسن نقوی

No comments:

Post a Comment