Showing posts with label آصف ریحان عابد. Show all posts
Showing posts with label آصف ریحان عابد. Show all posts

Tuesday, 30 April 2024

کیسے بتاؤں تم کو نہ جانے کدھر گیا

 کیسے بتاؤں تم کو نہ جانے کدھر گیا

وہ عشق وشق چھوڑ کے شاید سدھر گیا

میں نے بھی اپنے آپ کو مصروف کر لیا

اور اس کی چاہتوں کا بھی دریا اتر گیا

لگتا ہے یوں کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے

بچھڑے ہوئے کسی سے زمانہ گزر گیا

Saturday, 30 March 2024

خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں میں

 خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں میں

پانی پر تصویر بنا سکتا ہوں میں

وعدوں قسموں رسموں کی زنجیروں کو

تو جو بلائے توڑ کے آسکتا ہوں میں

تیشہء فرہاد ہے میرے پاس ابھی

راہ کے سب کہسار ہٹا سکتا ہوں میں

Thursday, 7 March 2024

ڈھونڈو اس کو جسے نے تم بھلا دیا ہے

 پرندے سارے گھونسلوں میں چھپ گئے ہیں

پربتوں نے سفید چادر

اوڑھ لی ہے

میرے غم میں شریک ہیں سب

سکوت چھایا ہوا ہے ہر سو

تمہارے عہد و پیمان سارے

Friday, 26 January 2024

ایک کانٹا سا دل میں چبھتا ہے

 ایک کانٹا سا دل میں چُبھتا ہے

پُھول ہیں بے شمار راہوں میں

تُو نے یکلخت پھیر لی نظریں

آ گیا کون تیری بانہوں میں

جانے والا تو جا چکا عابد

مانگتے کیا ہو اب دعاؤں میں

Sunday, 19 September 2021

ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی

ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی

زخموں کو مرہموں کی ضرورت نہیں رہی

ہوتی نہیں ہے دیکھ کر اب دل میں گُدگدی

یا یوں سمجھ لو؛ اُن سے محبت نہیں رہی

یادوں کو دفن کر دیا، خط بھی جلا دئیے

اب اور درد سہنے کی ہمت نہیں رہی

Tuesday, 2 March 2021

اندھیرا اتنا نہ کچھ دکھائی دے

اندھیرا اتنا، نہ کچھ دِکھائی دے

شور اتنا، نہ کچھ سُنائی دے

تالے ہیں خلق کی زبانوں پر

میرے خالق! مجھے گویائی دے

آب دانہ نہیں گر پاس تِرے

اے صیاد! مجھے رہائی دے