کیسے بتاؤں تم کو نہ جانے کدھر گیا
وہ عشق وشق چھوڑ کے شاید سدھر گیا
میں نے بھی اپنے آپ کو مصروف کر لیا
اور اس کی چاہتوں کا بھی دریا اتر گیا
لگتا ہے یوں کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے
بچھڑے ہوئے کسی سے زمانہ گزر گیا
کیسے بتاؤں تم کو نہ جانے کدھر گیا
وہ عشق وشق چھوڑ کے شاید سدھر گیا
میں نے بھی اپنے آپ کو مصروف کر لیا
اور اس کی چاہتوں کا بھی دریا اتر گیا
لگتا ہے یوں کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے
بچھڑے ہوئے کسی سے زمانہ گزر گیا
خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں میں
پانی پر تصویر بنا سکتا ہوں میں
وعدوں قسموں رسموں کی زنجیروں کو
تو جو بلائے توڑ کے آسکتا ہوں میں
تیشہء فرہاد ہے میرے پاس ابھی
راہ کے سب کہسار ہٹا سکتا ہوں میں
پرندے سارے گھونسلوں میں چھپ گئے ہیں
پربتوں نے سفید چادر
اوڑھ لی ہے
میرے غم میں شریک ہیں سب
سکوت چھایا ہوا ہے ہر سو
تمہارے عہد و پیمان سارے
ایک کانٹا سا دل میں چُبھتا ہے
پُھول ہیں بے شمار راہوں میں
تُو نے یکلخت پھیر لی نظریں
آ گیا کون تیری بانہوں میں
جانے والا تو جا چکا عابد
مانگتے کیا ہو اب دعاؤں میں
ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی
زخموں کو مرہموں کی ضرورت نہیں رہی
ہوتی نہیں ہے دیکھ کر اب دل میں گُدگدی
یا یوں سمجھ لو؛ اُن سے محبت نہیں رہی
یادوں کو دفن کر دیا، خط بھی جلا دئیے
اب اور درد سہنے کی ہمت نہیں رہی
اندھیرا اتنا، نہ کچھ دِکھائی دے
شور اتنا، نہ کچھ سُنائی دے
تالے ہیں خلق کی زبانوں پر
میرے خالق! مجھے گویائی دے
آب دانہ نہیں گر پاس تِرے
اے صیاد! مجھے رہائی دے