ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی
زخموں کو مرہموں کی ضرورت نہیں رہی
ہوتی نہیں ہے دیکھ کر اب دل میں گُدگدی
یا یوں سمجھ لو؛ اُن سے محبت نہیں رہی
یادوں کو دفن کر دیا، خط بھی جلا دئیے
اب اور درد سہنے کی ہمت نہیں رہی
چُبھنے لگی ہیں آنکھ میں خوابوں کی کِرچیاں
راتوں کو جلد سونے کی عادت نہیں رہی
پھینکا ہے مار کر مجھے اپنوں نے دُھوپ میں
غیروں سے مجھ کو کوئی شکایت نہیں رہی
آصف ریحان عابد
No comments:
Post a Comment