Sunday, 19 September 2021

ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی

ملنے کی ان سے کوئی بھی صورت نہیں رہی

زخموں کو مرہموں کی ضرورت نہیں رہی

ہوتی نہیں ہے دیکھ کر اب دل میں گُدگدی

یا یوں سمجھ لو؛ اُن سے محبت نہیں رہی

یادوں کو دفن کر دیا، خط بھی جلا دئیے

اب اور درد سہنے کی ہمت نہیں رہی

چُبھنے لگی ہیں آنکھ میں خوابوں کی کِرچیاں

راتوں کو جلد سونے کی عادت نہیں رہی

پھینکا ہے مار کر مجھے اپنوں نے دُھوپ میں

غیروں سے مجھ کو کوئی شکایت نہیں رہی


آصف ریحان عابد

No comments:

Post a Comment