دوستوں کے دشمنوں کا یار ثابت کر مجھے
باقی باتیں چھوڑ اور غدار ثابت کر مجھے
میرے دونوں ہاتھ چومے اور پھر رونے لگا
میں نے اس سے جب کہا تھا؛ پیار ثابت کر مجھے
پہلے میں بھی تیرے دل کی قیمتی چیزوں میں تھا
اب اگر بے کار ہوں، بے کار ثابت کر مجھے
میں جو خالی ہاتھ تیرے سامنے آجاؤں تو
تُو اٹھائے گا نہیں تلوار، ثابت کر مجھے
دھوپ کہتی ہے تیری دیوار کا سایہ ہوں میں
اے محبت! سایۂ دیوار ثابت کر مجھے
زاہد بشیر
No comments:
Post a Comment