Showing posts with label رازق انصاری. Show all posts
Showing posts with label رازق انصاری. Show all posts

Monday, 9 August 2021

میں ہوں میری چشم تر ہے رات ہے تنہائی ہے

 میں ہوں میری چشمِ تر ہے رات ہے تنہائی ہے

درد میرا ہم سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے

جگنوؤں سے ساتھ چلنے کی گزارش کیجیے

ہجر کا لمبا سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے

پھر وہی یادیں، وہی آنسو، وہی آہ و فغاں

پھر وہی دیوار و در ہے رات ہے تنہائی ہے

Friday, 6 August 2021

پیاس بکھری ہوئی ہے بستی میں

 پیاس بکھری ہوئی ہے بستی میں

اور سمندر ہے اپنی مستی میں

کتنا نیچے گرا لیا خود کو

آپ نے شخصیت پرستی میں

کیوں کریں ہم ضمیر کا سودا

ہم بہت خوش ہیں فاقہ مستی میں

Thursday, 5 August 2021

آنسو اپنی چشم تر سے نکلیں تو

 آنسو اپنی چشمِ تر سے نکلیں تو

تازہ دم ہو جائیں گھر سے نکلیں تو

بیماروں کو تھوڑا سا آرام ملے

باہر دستِ چارہ گر سے نکلیں تو

سچائی سے پردہ بھی ہٹ سکتا ہے

اخباروں میں چھپی خبر سے نکلیں تو

Friday, 30 July 2021

چلو چل کر وہیں پر بیٹھتے ہیں

 چلو چل کر وہیں پر بیٹھتے ہیں

جہاں پر سب برابر بیٹھتے ہیں 

نجانے کیوں گھٹن سی ہو رہی ہے 

بدن سے چل کے باہر بیٹھتے ہیں 

ہماری ہار کا اعلان ہو گا 

اگر ہم لوگ تھک کر بیٹھتے ہیں 

Wednesday, 28 April 2021

روز کہتا ہے مجھے چل دشت میں

 روز کہتا ہے مجھے چل دشت میں 

لے نہ جائے دل یہ پاگل دشت میں 

درج ہونی ہے نئی آمد کوئی 

ہو رہی ہے خوب ہلچل دشت میں 

ایک میں ہوں ایک ہیں مجنوں میاں 

ہو گئے دو لوگ ٹوٹل دشت میں