میں ہوں میری چشمِ تر ہے رات ہے تنہائی ہے
درد میرا ہم سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے
جگنوؤں سے ساتھ چلنے کی گزارش کیجیے
ہجر کا لمبا سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے
پھر وہی یادیں، وہی آنسو، وہی آہ و فغاں
پھر وہی دیوار و در ہے رات ہے تنہائی ہے
میں ہوں میری چشمِ تر ہے رات ہے تنہائی ہے
درد میرا ہم سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے
جگنوؤں سے ساتھ چلنے کی گزارش کیجیے
ہجر کا لمبا سفر ہے، رات ہے تنہائی ہے
پھر وہی یادیں، وہی آنسو، وہی آہ و فغاں
پھر وہی دیوار و در ہے رات ہے تنہائی ہے
پیاس بکھری ہوئی ہے بستی میں
اور سمندر ہے اپنی مستی میں
کتنا نیچے گرا لیا خود کو
آپ نے شخصیت پرستی میں
کیوں کریں ہم ضمیر کا سودا
ہم بہت خوش ہیں فاقہ مستی میں
آنسو اپنی چشمِ تر سے نکلیں تو
تازہ دم ہو جائیں گھر سے نکلیں تو
بیماروں کو تھوڑا سا آرام ملے
باہر دستِ چارہ گر سے نکلیں تو
سچائی سے پردہ بھی ہٹ سکتا ہے
اخباروں میں چھپی خبر سے نکلیں تو
چلو چل کر وہیں پر بیٹھتے ہیں
جہاں پر سب برابر بیٹھتے ہیں
نجانے کیوں گھٹن سی ہو رہی ہے
بدن سے چل کے باہر بیٹھتے ہیں
ہماری ہار کا اعلان ہو گا
اگر ہم لوگ تھک کر بیٹھتے ہیں
روز کہتا ہے مجھے چل دشت میں
لے نہ جائے دل یہ پاگل دشت میں
درج ہونی ہے نئی آمد کوئی
ہو رہی ہے خوب ہلچل دشت میں
ایک میں ہوں ایک ہیں مجنوں میاں
ہو گئے دو لوگ ٹوٹل دشت میں