آئینہ دار جلوۂ جانانہ بن گیا
ہر ذرہ کائنات کا دیوانہ بن گیا
محفل میں ان کی صورتِ پروانہ بن گیا
جس میں ذرا بھی ہوش تھا دیوانہ بن گیا
قائم رہا نماز میں بھی ذوقِ معصیت
اٹھے دعا کو ہاتھ تو پیمانہ بن گیا
آئینہ دار جلوۂ جانانہ بن گیا
ہر ذرہ کائنات کا دیوانہ بن گیا
محفل میں ان کی صورتِ پروانہ بن گیا
جس میں ذرا بھی ہوش تھا دیوانہ بن گیا
قائم رہا نماز میں بھی ذوقِ معصیت
اٹھے دعا کو ہاتھ تو پیمانہ بن گیا
تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے
نہ زندگی کی خوشی ہے نہ موت کا غم ہے
وہ ایک اشک کا قطرہ جو حاصلِ غم ہے
وہی تو زخمِ جگر کا ہمارے مرہم ہے
مقام اپنا ہے اس طرح دار فانی میں
کہ جیسے دامنِ گل پر ثبات شبنم ہے
وقتِ آخر کام جذبِ نا تمام آیا تو کیا
ہچکیوں کی شکل میں ان کا پیام آیا تو کیا
رہ گئی رندوں میں جب ساغر اٹھانے کی نہ تاب
اب تغافل آشنا ساقی بہ جام آیا تو کیا
وقت ہی پر لے کے ابھرے گا پیام صبح نو
ڈوبتے سورج کو تاروں کا سلام آیا تو کیا
منزل کا محبت میں کہیں نام نہیں ہے
آغاز ہی آغاز ہے،۔ انجام نہیں ہے
صیّاد یہ کیونکر کہوں، آرام نہیں ہے
جو کل تھی تڑپ آج تہِ دام نہیں ہے
نظارے سے ہاں اور بھی دل ہوتا ہے بیچین
بے آپ کے دیکھے بھی تو آرام نہیں ہے
بجھا بجھا سا چراغ سرِ مزار ہوں میں
خزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں
وہ جس پہ غیر بھی روتے ہیں آٹھ آٹھ آنسو
وہ ایک محفل ماضی کی یادگار ہوں میں
جو تیرے دامن رحمت کی آبرو رکھ لے
مِرے کریم وہی اک گناہ گار ہوں میں