Showing posts with label روشن بنارسی. Show all posts
Showing posts with label روشن بنارسی. Show all posts

Wednesday, 21 September 2022

آئینہ دار جلوۂ جانانہ بن گیا

 آئینہ دار جلوۂ جانانہ بن گیا 

ہر ذرہ کائنات کا دیوانہ بن گیا 

محفل میں ان کی صورتِ پروانہ بن گیا 

جس میں ذرا بھی ہوش تھا دیوانہ بن گیا 

قائم رہا نماز میں بھی ذوقِ معصیت 

اٹھے دعا کو ہاتھ تو پیمانہ بن گیا 

Sunday, 11 September 2022

تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے

 تمہاری یاد میں یہ بے خودی کا عالم ہے

نہ زندگی کی خوشی ہے نہ موت کا غم ہے

وہ ایک اشک کا قطرہ جو حاصلِ غم ہے

وہی تو زخمِ جگر کا ہمارے مرہم ہے

مقام اپنا ہے اس طرح دار فانی میں

کہ جیسے دامنِ گل پر ثبات شبنم ہے

Sunday, 28 August 2022

وقت آخر کام جذب ناتمام آیا تو کیا

 وقتِ آخر کام جذبِ نا تمام آیا تو کیا

ہچکیوں کی شکل میں ان کا پیام آیا تو کیا

رہ گئی رندوں میں جب ساغر اٹھانے کی نہ تاب

اب تغافل آشنا ساقی بہ جام آیا تو کیا

وقت ہی پر لے کے ابھرے گا پیام صبح نو

ڈوبتے سورج کو تاروں کا سلام آیا تو کیا

Saturday, 27 August 2022

منزل کا محبت میں کہیں نام نہیں ہے

 منزل کا محبت میں کہیں نام نہیں ہے

آغاز ہی آغاز ہے،۔ انجام نہیں ہے

صیّاد یہ کیونکر کہوں، آرام نہیں ہے

جو کل تھی تڑپ آج تہِ دام نہیں ہے

نظارے سے ہاں اور بھی دل ہوتا ہے بیچین

بے آپ کے دیکھے بھی تو آرام نہیں ہے

Friday, 28 January 2022

بجھا بجھا سا چراغ سر مزار ہوں میں

 بجھا بجھا سا چراغ سرِ مزار ہوں میں

خزاں نے جس کو سنوارا ہے وہ بہار ہوں میں

وہ جس پہ غیر بھی روتے ہیں آٹھ آٹھ آنسو

وہ ایک محفل ماضی کی یادگار ہوں میں

جو تیرے دامن رحمت کی آبرو رکھ لے

مِرے کریم وہی اک گناہ گار ہوں میں