ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے
شریف لوگ تھے گھر سے نکلنا بھول گئے
تِری امید پہ شاید نہ اب کھرے اتریں
ہم اتنی بار بجھے ہیں کہ جلنا بھول گئے
تمہیں تو علم تھا بستی کے لوگ کیسے ہیں
تم اس کے بعد بھی کپڑے بدلنا بھول گئے
ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے
شریف لوگ تھے گھر سے نکلنا بھول گئے
تِری امید پہ شاید نہ اب کھرے اتریں
ہم اتنی بار بجھے ہیں کہ جلنا بھول گئے
تمہیں تو علم تھا بستی کے لوگ کیسے ہیں
تم اس کے بعد بھی کپڑے بدلنا بھول گئے
وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا
لباس پہنے رہا، اور بدن اتار گیا
حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگے
ہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا
اسے قریب سے دیکھا تو کچھ شفا پائی
کئی برس میں مِرے جسم سے بخار گیا
اب اسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتے ہم
اور، گھر اتنا پرانا بھی نہیں چاہتے ہم
سر بھی محفوظ اسی میں ہے ہمارا لیکن
کیا کریں سر کو جھکانا بھی نہیں چاہتے ہم
اپنی غیرت کے لیے فاقہ کشی بھی منظور
تیری شرطوں پہ خزانہ بھی نہیں چاہتے ہم
درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا
آنکھ کا تنکا بہت آنکھ مسل کر نکلا
تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم
جو بھی نکلا، ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا
شہر کی آنکھیں بدلنا تو مِرے بس میں نہ تھا
یہ کیا میں نے کہ میں بھیس بدل کر نکلا
بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے
ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے
تم ایک بار جو ٹوٹے تو جڑ نہیں پائے
ہمیں تو روز یہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے
مجھے خریدنے ایسے بھی لوگ آتے ہیں
کہ جن کے کہنے سے قیمت گھٹانی پڑتی ہے
شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے
ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے
اس لئے ہنسنے ہنسانے کی بنا لی عادت
میں جو روتا تو کئی لوگ مزا بھی لیتے
تیرے بکنے کی خبر کاش کہ پہلے ہوتی
اتنی دولت تو مِری جان کما بھی لیتے
تِری مدد کا یہاں تک حساب دینا پڑا
چراغ لے کے مجھے آفتاب دینا پڑا
تعلقات میں کچھ تو دراڑ پڑنی تھی
کئی سوال تھے جن کا جواب دینا پڑا
اب اس سزا سے بڑی اور کیا سزا ہو گی
نئے سرے سے پرانا حساب دینا پڑا
یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے
کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے
نہ اتنا شور کر ظالم! ہمارے ٹوٹ جانے پر
کہ گردش میں فلک سے بھی ستارا ٹوٹ جاتا ہے
تسلی دینے والے تو تسلی دیتے رہتے ہیں
مگر وہ کیا کرے جس کا بھروسا ٹوٹ جاتا ہے
خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے
کیا ہمیں ریت کی دیوار سمجھ رکھا ہے
ہم نے کردار کو کپڑوں کی طرح پہنا ہے
تم نے کپڑوں ہی کو کردار سمجھ رکھا ہے
میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو
بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے
نظر نہ آئے ہم اہلِ نظر کے ہوتے ہوئے
عذابِ خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے
یہ کون مجھ کو کنارے پہ لا کے چھوڑ گیا؟
بھنور سے بچ گیا کیسے بھنور کے ہوتے ہوئے
یہ انتقام ہے، یا احتجاج ہے؟ کیا ہے؟
یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے