Showing posts with label حسیب سوز. Show all posts
Showing posts with label حسیب سوز. Show all posts

Friday, 6 January 2023

ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے

ذرا سی چوٹ لگی تھی کہ چلنا بھول گئے

شریف لوگ تھے گھر سے نکلنا بھول گئے

تِری امید پہ شاید نہ اب کھرے اتریں

ہم اتنی بار بجھے ہیں کہ جلنا بھول گئے

تمہیں تو علم تھا بستی کے لوگ کیسے ہیں

تم اس کے بعد بھی کپڑے بدلنا بھول گئے

Monday, 18 July 2022

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

 وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا 

لباس پہنے رہا، اور بدن اتار گیا 

حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگے 

ہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا 

اسے قریب سے دیکھا تو کچھ شفا پائی 

کئی برس میں مِرے جسم سے بخار گیا 

Saturday, 23 April 2022

اب اسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتے ہم

 اب اسے چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتے ہم 

اور، گھر اتنا پرانا بھی نہیں چاہتے ہم 

سر بھی محفوظ اسی میں ہے ہمارا لیکن 

کیا کریں سر کو جھکانا بھی نہیں چاہتے ہم 

اپنی غیرت کے لیے فاقہ کشی بھی منظور 

تیری شرطوں پہ خزانہ بھی نہیں چاہتے ہم 

Saturday, 7 August 2021

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

 درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

آنکھ کا تنکا بہت آنکھ مسل کر نکلا

تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم

جو بھی نکلا، ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا

شہر کی آنکھیں بدلنا تو مِرے بس میں نہ تھا

یہ کیا میں نے کہ میں بھیس بدل کر نکلا

Tuesday, 3 August 2021

بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے

 بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے

ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے

تم ایک بار جو ٹوٹے تو جڑ نہیں پائے

ہمیں تو روز یہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے

مجھے خریدنے ایسے بھی لوگ آتے ہیں

کہ جن کے کہنے سے قیمت گھٹانی پڑتی ہے

Monday, 2 August 2021

ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے

 شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے

ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے

اس لئے ہنسنے ہنسانے کی بنا لی عادت

میں جو روتا تو کئی لوگ مزا بھی لیتے

تیرے بکنے کی خبر کاش کہ پہلے ہوتی

اتنی دولت تو مِری جان کما بھی لیتے

Saturday, 31 July 2021

تری مدد کا یہاں تک حساب دینا پڑا

 تِری مدد کا یہاں تک حساب دینا پڑا

چراغ لے کے مجھے آفتاب دینا پڑا 

تعلقات میں کچھ تو دراڑ پڑنی تھی 

کئی سوال تھے جن کا جواب دینا پڑا 

اب اس سزا سے بڑی اور کیا سزا ہو گی 

نئے سرے سے پرانا حساب دینا پڑا 

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

 یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے

نہ اتنا شور کر ظالم! ہمارے ٹوٹ جانے پر

کہ گردش میں فلک سے بھی ستارا ٹوٹ جاتا ہے

تسلی دینے والے تو تسلی دیتے رہتے ہیں

مگر وہ کیا کرے جس کا بھروسا ٹوٹ جاتا ہے

Sunday, 18 July 2021

خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

 خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

کیا ہمیں ریت کی دیوار سمجھ رکھا ہے

ہم نے کردار کو کپڑوں کی طرح پہنا ہے

تم نے کپڑوں ہی کو کردار سمجھ رکھا ہے

میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو

بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے

Sunday, 20 June 2021

نظر نہ آئے ہم اہل نظر کے ہوتے ہوئے

 نظر نہ آئے ہم اہلِ نظر کے ہوتے ہوئے

عذابِ خانہ بدوشی ہے گھر کے ہوتے ہوئے

یہ کون مجھ کو کنارے پہ لا کے چھوڑ گیا؟

بھنور سے بچ گیا کیسے بھنور کے ہوتے ہوئے

یہ انتقام ہے، یا احتجاج ہے؟ کیا ہے؟

یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے