Tuesday, 3 August 2021

بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے

 بڑے حساب سے عزت بچانی پڑتی ہے

ہمیشہ جھوٹی کہانی سنانی پڑتی ہے

تم ایک بار جو ٹوٹے تو جڑ نہیں پائے

ہمیں تو روز یہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے

مجھے خریدنے ایسے بھی لوگ آتے ہیں

کہ جن کے کہنے سے قیمت گھٹانی پڑتی ہے

ملال یہ ہے کہ یہ دونوں ہاتھ میرے ہیں

کسی کی چیز کسی سے چُھپانی پڑتی ہے

تم اپنا نام بتا کر ہی چُھوٹ جاتے ہو

ہمیں تو ذات بھی اپنی بتانی پڑتی ہے


حسیب سوز

No comments:

Post a Comment