زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں
لبوں پر نہیں ہیں یہ چاہت کی باتیں
تمہیں کچھ ضرورت نہیں بولنے کی
سنو کربلا کی مودت کی باتیں
کتابوں میں ایسی حقیقت کہاں ہے
جہاں میں ہیں رائج کدورت کی باتیں
زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں
لبوں پر نہیں ہیں یہ چاہت کی باتیں
تمہیں کچھ ضرورت نہیں بولنے کی
سنو کربلا کی مودت کی باتیں
کتابوں میں ایسی حقیقت کہاں ہے
جہاں میں ہیں رائج کدورت کی باتیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زندگانی دوام ہو جائے
جب مدینے قیام ہو جائے
رات گزرے نبی کے روضے پر
دن بھی یونہی تمام ہو جائے
چوم لوں جا کے روضے کی جالی
عاجزانہ سلام ہو جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ ہنر ہو عطا میں بھی نعتیں لکھوں
شانِ صلِ علیٰ میں بھی نعتیں لکھوں
لفظوں کے اُتریں لولاک سے قافلے
ہو معطر فضا میں بھی نعتیں لکھوں
رو برو ہو نبیﷺ کا مدینہ سدا
ہو خدا کی رضا میں بھی نعتیں لکھوں
ساتھ گزرے ہیں تیرے جو یار دن
یاد کے قابل ہیں وہ شہکار دن
آئے دن کی چھوڑ یہ ناراضگی
زندگی کے ہیں یہی بس چار دن
مہکتا ہے پھولوں سے سارا چمن
جب تمہارا کرتا ہے دیدار دن