Showing posts with label اختر شاہجہانپوری. Show all posts
Showing posts with label اختر شاہجہانپوری. Show all posts

Monday, 31 August 2026

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

 یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب

زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا

اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب

جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ

آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب

Thursday, 16 July 2026

قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا

 قِسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا

آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا

یا تو مِرے بیان پہ مُنصف یقیں کرے

یا پھر سزا لِکھے میں گواہی نہ لاؤں گا

اس دورِ نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر

اب داستاں میں ذکرِ وفا ہی نہ لاؤں گا

Sunday, 10 August 2025

کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں

 کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں 

بہت کچھ رو چکے ہم تو اداکاری کے موسم میں 

اتر آؤں گا میں بھی زینۂ ہستی سے یوں اک دن 

کہ جیسے رنگ رخ اترے ہے ناداری کے موسم میں 

تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا 

عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں 

Saturday, 5 July 2025

جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں

 جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں 

تجھے منظر بہ منظر دیکھتے ہیں 

قبائے درد جب سے زیب تن ہے 

خوشی کو اپنے اندر دیکھتے ہیں 

چلو امن و اماں ہے میکدے میں 

وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں 

Monday, 13 November 2023

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ

اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ

ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو

سُونے سُونے سے دریچے دے گیا وہ

لے گیا میری خُودی، میری انا بھی

اے جبینِ شوق! سجدے دے گیا وہ