یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب
منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب
زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا
اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب
جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ
آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب
یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب
منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب
زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا
اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب
جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ
آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب
قِسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا
آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا
یا تو مِرے بیان پہ مُنصف یقیں کرے
یا پھر سزا لِکھے میں گواہی نہ لاؤں گا
اس دورِ نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر
اب داستاں میں ذکرِ وفا ہی نہ لاؤں گا
کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں
بہت کچھ رو چکے ہم تو اداکاری کے موسم میں
اتر آؤں گا میں بھی زینۂ ہستی سے یوں اک دن
کہ جیسے رنگ رخ اترے ہے ناداری کے موسم میں
تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا
عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں
جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں
تجھے منظر بہ منظر دیکھتے ہیں
قبائے درد جب سے زیب تن ہے
خوشی کو اپنے اندر دیکھتے ہیں
چلو امن و اماں ہے میکدے میں
وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں
دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ
اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ
ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو
سُونے سُونے سے دریچے دے گیا وہ
لے گیا میری خُودی، میری انا بھی
اے جبینِ شوق! سجدے دے گیا وہ