جو عقدہ مشکل ہے وہ آسان سا کیوں ہے
پھر بھی میرا دل اتنا پریشان سا کیوں ہے
گلیوں کا یہ انبوہ، یہ بازار کی رونق
یہ شہر مگر پھر بھی بیابان سا کیوں ہے
کیوں بدلا ہُوا طرزِ تکلم ہے کسی کا
دیرینہ رفاقت پہ بھی انجان کیوں ہے
جو عقدہ مشکل ہے وہ آسان سا کیوں ہے
پھر بھی میرا دل اتنا پریشان سا کیوں ہے
گلیوں کا یہ انبوہ، یہ بازار کی رونق
یہ شہر مگر پھر بھی بیابان سا کیوں ہے
کیوں بدلا ہُوا طرزِ تکلم ہے کسی کا
دیرینہ رفاقت پہ بھی انجان کیوں ہے
لازم ہے اس جہان میں پہچان ڈھونڈنا
عنوان زندگی کا مِری جان ڈھونڈنا
پہلے تم اپنا دستِ محبت کرو دراز
اور اس کے بعد سایۂ امکان ڈھونڈنا
مانا یہ بزم اپنے ہی لوگوں کی بزم ہے
لہجے میں جو چُھپے ہیں وہ پیکان ڈھونڈنا
ہم راہ میں کھڑ ے تھے پتھر کے دیس میں
شیشے کے بُت پڑے تھے پتھر کے دیس میں
چل چل کے ساتھ اپنے راہیں بھی رو پڑیں
ہم در بدر پھرے تھے پتھر کے دیس میں
پنچھی کے کتر دئیے دُنیا نے؛ "اُڑ" کہا
بے پر پرندے اُڑے تھے پتھر کے دیس میں
اپنا آپ سہارا بن
پُختہ ایک کِنارا بن
سب کو چَین سکُون مِلے
پیار کا ایسا دھارا بن
رستہ صاف دِکھائی دے
ایسا ایک سِتارا بن
دستِ شبِ دل تک آ گیا اب کے
لو گیا، آخری دِیا، اب کے
طاق در طاق رقص کرتی ہے
بھیس بدلے ہوئے ہوا، اب کے
منہمک گُل نے جی ملُول کیۓ
مضمحل ہو گئی فضا، اب کے
جانے تُو کب آئے گا
اک من موہنی لڑکی
تیری راہ میں بیٹھے بیٹھے
شام و سحر یہ سوچتی ہے
جب تو لوٹ آئے گا
مدہم مدہم چاند ستارے
یکدم روشن ہو جائیں گے