Showing posts with label صدف غوری. Show all posts
Showing posts with label صدف غوری. Show all posts

Monday, 15 April 2024

جو عقدہ مشکل ہے وہ آسان سا کیوں ہے

 جو عقدہ مشکل ہے وہ آسان سا کیوں ہے

پھر بھی میرا دل اتنا پریشان سا کیوں ہے

گلیوں کا یہ انبوہ، یہ بازار کی رونق

یہ شہر مگر پھر بھی بیابان سا کیوں ہے

کیوں بدلا ہُوا طرزِ تکلم ہے کسی کا

دیرینہ رفاقت پہ بھی انجان کیوں ہے

Friday, 15 March 2024

لازم ہے اس جہان میں پہچان ڈھونڈنا

 لازم ہے اس جہان میں پہچان ڈھونڈنا

عنوان زندگی کا مِری جان ڈھونڈنا

پہلے تم اپنا دستِ محبت کرو دراز

اور اس کے بعد سایۂ امکان ڈھونڈنا

مانا یہ بزم اپنے ہی لوگوں کی بزم ہے

لہجے میں جو چُھپے ہیں وہ پیکان ڈھونڈنا

Friday, 8 March 2024

ہم راہ میں کھڑ ے تھے پتھر کے دیس میں

 ہم راہ میں کھڑ ے تھے پتھر کے دیس میں

شیشے کے بُت پڑے تھے پتھر کے دیس میں

چل چل کے ساتھ اپنے راہیں بھی رو پڑیں

ہم در بدر پھرے تھے پتھر کے دیس میں

پنچھی کے کتر دئیے دُنیا نے؛ "اُڑ" کہا

بے پر پرندے اُڑے تھے پتھر کے دیس میں

Saturday, 23 December 2023

اپنا آپ سہارا بن پختہ ایک کنارا بن

 اپنا آپ سہارا بن

پُختہ ایک کِنارا بن

سب کو چَین سکُون مِلے

پیار کا ایسا دھارا بن

رستہ صاف دِکھائی دے

ایسا ایک سِتارا بن

Sunday, 27 November 2022

دست شب دل تک آ گیا اب کے

دستِ شبِ دل تک آ گیا اب کے

لو گیا، آخری دِیا، اب کے

طاق در طاق رقص کرتی ہے

بھیس بدلے ہوئے ہوا، اب کے

منہمک گُل نے جی ملُول کیۓ

مضمحل ہو گئی فضا، اب کے

Wednesday, 7 April 2021

اک من موہنی لڑکی تیری راہ میں بیٹھے بیٹھے

جانے تُو کب آئے گا


اک من موہنی لڑکی

تیری راہ میں بیٹھے بیٹھے

شام و سحر یہ سوچتی ہے

جب تو لوٹ آئے گا

مدہم مدہم چاند ستارے

یکدم روشن ہو جائیں گے