جانے تُو کب آئے گا
اک من موہنی لڑکی
تیری راہ میں بیٹھے بیٹھے
شام و سحر یہ سوچتی ہے
جب تو لوٹ آئے گا
مدہم مدہم چاند ستارے
یکدم روشن ہو جائیں گے
راتیں نور سے بھر جائیں گی
آنکھ کا کاجل سندر سندر ہو جائے گا
لبوں کی لالی
گیت ملاپ کے گائے گی
گھر آنگن دلہن کی صورت سج جائے گا
ہر سو خوشبو پھیلے گی
شام و سحر تِری راہ میں بیٹھی
پاگل لڑکی سوچتی ہے
جب تو لوٹ کے آئے گا تو
جانے تو کب آئے گا
صدف غوری
No comments:
Post a Comment