کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے
وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ دلبری کیا ہے
گئے دنوں کے تبسم کی راکھ بکھری ہے
ہوائے شہر مِرے دل میں ڈھونڈھتی کیا ہے
فصیل جسم پہ تانی ہے کرب کی چادر
ہم اہلِ درد سے پوچھو کہ زندگی کیا ہے
کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے
وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ دلبری کیا ہے
گئے دنوں کے تبسم کی راکھ بکھری ہے
ہوائے شہر مِرے دل میں ڈھونڈھتی کیا ہے
فصیل جسم پہ تانی ہے کرب کی چادر
ہم اہلِ درد سے پوچھو کہ زندگی کیا ہے
کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے
ہم نئے مہ وشوں کو ڈھونڈیں گے
جو تِرے پیار کا بدل نہ بنیں
پھر انہی حسرتوں کو ڈھونڈیں گے
نیم جاں لوگ چیونٹیوں کی طرح
رزق کے مخزنوں کو ڈھونڈیں گے
وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے
قریب آئے تو تازہ گلاب جیسا ہے
خدا کرے کہ کبھی بھی نہ ٹوٹنے پائے
یہ تیرا میرا ملن ایک خواب جیسا ہے
ذرا بھی تیز ہوا ہو تو کانپ اٹھتا ہے
وہ خوش جمال تو شاخِ گلاب جیسا ہے
پیار کا ابر کھل کے برسا ہے
ٹوٹ کر میں نے تجھ کو چاہا ہے
اس سے بڑھ کر جدائی کیا ہو گی
اب تو آنکھوں سے خون بہتا ہے
شاید اب پھر کبھی نہ مل پائیں
میں نے خوابوں میں تجھ کو دیکھا ہے
قلت خلوص کی ہے، محبت کا کال ہے
اس شہرِ نا سپاس میں جینا محال ہے
پیڑوں پہ چاندنی کے ہیولے ہیں محوِ رقص
کمرے میں تیرگی کی لکیروں کا جال ہے
سانسوں کا ربط جیسے مسلسل عذاب ہو
وہ شخص کیا جیۓ جسے تیرا خیال ہے
تنِ نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی
بہت دنوں سے خدا سے دعا نہیں مانگی
خود اپنی لاش کو اپنے لہو سے ڈھانپا ہے
ہری رُتوں سے گُلوں کی قبا نہیں مانگی
چھتوں پہ پیاس پڑاؤ کیۓ رہی لیکن
سیاہ بخت گھروں نے گھٹا نہیں مانگی
اک وہ بھی دن تھے تجھ سے مِرا رابطہ نہ تھا
سنجیدگی سے تیرے لیے سوچتا نہ تھا
نفرت ملی تو زعمِ وفا ٹوٹ ٹوٹ کر
بکھرا کچھ اس طرح کہ کوئی واسطہ نہ تھا
کمرے میں پھیلتی ہی گئی روشنی کی لہر
کِرنوں کا جال تھا کہ کہیں ٹوٹتا نہ تھا