Showing posts with label نیاز حسین لکھویرا. Show all posts
Showing posts with label نیاز حسین لکھویرا. Show all posts

Wednesday, 2 November 2022

کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے

 کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے

وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ دلبری کیا ہے

گئے دنوں کے تبسم کی راکھ بکھری ہے

ہوائے شہر مِرے دل میں ڈھونڈھتی کیا ہے

فصیل جسم پہ تانی ہے کرب کی چادر

ہم اہلِ درد سے پوچھو کہ زندگی کیا ہے

Tuesday, 16 November 2021

کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے

 کرب کی لذتوں کو ڈھونڈیں گے

ہم نئے مہ وشوں کو ڈھونڈیں گے

جو تِرے پیار کا بدل نہ بنیں

پھر انہی حسرتوں کو ڈھونڈیں گے

نیم جاں لوگ چیونٹیوں کی طرح

رزق کے مخزنوں کو ڈھونڈیں گے

Thursday, 11 November 2021

وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے

 وہ ایک شخص کہ جو آفتاب جیسا ہے

قریب آئے تو تازہ گلاب جیسا ہے

خدا کرے کہ کبھی بھی نہ ٹوٹنے پائے

یہ تیرا میرا ملن ایک خواب جیسا ہے

ذرا بھی تیز ہوا ہو تو کانپ اٹھتا ہے

وہ خوش جمال تو شاخِ گلاب جیسا ہے

Thursday, 4 November 2021

پیار کا ابر کھل کے برسا ہے

 پیار کا ابر کھل کے برسا ہے

ٹوٹ کر میں نے تجھ کو چاہا ہے

اس سے بڑھ کر جدائی کیا ہو گی

اب تو آنکھوں سے خون بہتا ہے

شاید اب پھر کبھی نہ مل پائیں

میں نے خوابوں میں تجھ کو دیکھا ہے

Wednesday, 3 November 2021

قلت خلوص کی ہے محبت کا کال ہے

 قلت خلوص کی ہے، محبت کا کال ہے

اس شہرِ نا سپاس میں جینا محال ہے

پیڑوں پہ چاندنی کے ہیولے ہیں محوِ رقص

کمرے میں تیرگی کی لکیروں کا جال ہے

سانسوں کا ربط جیسے مسلسل عذاب ہو

وہ شخص کیا جیۓ جسے تیرا خیال ہے

Wednesday, 20 October 2021

تن نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی

 تنِ نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی

بہت دنوں سے خدا سے دعا نہیں مانگی

خود اپنی لاش کو اپنے لہو سے ڈھانپا ہے

ہری رُتوں سے گُلوں کی قبا نہیں مانگی

چھتوں پہ پیاس پڑاؤ کیۓ رہی لیکن

سیاہ بخت گھروں نے گھٹا نہیں مانگی

Wednesday, 9 December 2020

اک وہ بھی دن تھے تجھ سے مرا رابطہ نہ تھا

اک وہ بھی دن تھے تجھ سے مِرا رابطہ نہ تھا 

سنجیدگی سے تیرے لیے سوچتا نہ تھا 

نفرت ملی تو زعمِ وفا ٹوٹ ٹوٹ کر 

بکھرا کچھ اس طرح کہ کوئی واسطہ نہ تھا 

کمرے میں پھیلتی ہی گئی روشنی کی لہر 

کِرنوں کا جال تھا کہ کہیں ٹوٹتا نہ تھا