کوئی بتائے کہ یہ رنگ دوستی کیا ہے
وہ شخص پوچھ رہا ہے کہ دلبری کیا ہے
گئے دنوں کے تبسم کی راکھ بکھری ہے
ہوائے شہر مِرے دل میں ڈھونڈھتی کیا ہے
فصیل جسم پہ تانی ہے کرب کی چادر
ہم اہلِ درد سے پوچھو کہ زندگی کیا ہے
وہ دھڑکنوں کے تلاطم سے آشنا ہی نہیں
اسے خبر ہی نہیں ہے کہ شاعری کیا ہے
جو مہوشوں کی جبینوں سے پھوٹتی ہے نیاز
پرکھ سکو تو پرکھ لو وہ روشنی کیا ہے
نیاز حسین لکھویرا
No comments:
Post a Comment