Showing posts with label وقار بجنوری. Show all posts
Showing posts with label وقار بجنوری. Show all posts

Monday, 25 April 2022

چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہ صفات میں

 چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہِ صفات میں

حسن ہی حسن ہے تمام عشق کی کائنات میں

ایسے بھی وقت آئے ہیں عشق کی واردات میں

مستیاں جھوم جھوم اٹھیں دیدۂ کائنات میں

تُو مِری سرگزشت غم سن کے کرے گا کیا ندیم

وقفِ خلش ہے ہر نفس درد ہے بات بات میں

Sunday, 24 April 2022

ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام

 ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام

چشم ساقی تیری گردش سے ہے پیمانے کا نام

پہلے تھا موج بہاراں دل کے لہرانے کا نام

مسکن برق تپاں ہے اب تو کاشانے کا نام

آس جس کی ابتدا تھی یاس جس کی انتہا

اے دلِ ناکام! کیا ہو ایسے افسانے کا نام

Saturday, 23 April 2022

عشق میں خود سری نہیں ہوتی

 عشق میں خود سری نہیں ہوتی

حسن میں بندگی نہیں ہوتی

ناوک افگن بتا تو دے آخر

درد میں کیوں کمی نہیں ہوتی

راز الفت کہاں چھپائیں ہم

دل سے بھی دشمنی نہیں ہوتی

Friday, 22 April 2022

غم محبت ہے کار فرما دعا سے پہلے اثر سے پہلے

 غم محبت ہے کار فرما دعا سے پہلے اثر سے پہلے

بتا رہی ہے یہ دل کی دھڑکن وہ آ رہے ہیں خبر سے پہلے

یہ کس کے گیسو سے مانگ لائی نسیم نکہت سحر سے پہلے

فضائے گلشن اداس سی تھی شمیم‌ عنبر اثر سے پہلے

بجائے خوں مے جھلک رہی ہے ہماری رگ رگ سے اب تو ساقی

بہت ہی بے کیف زندگی تھی خمار آگیں نظر سے پہلے

Saturday, 18 September 2021

ان کی چشم مست میں پوشیدہ اک مے خانہ تھا

 ان کی چشمِ مست میں پوشیدہ اک مے خانہ تھا

جام تھا ساغر تھا مے تھی شیشہ تھا پیمانہ تھا

کیا فقط میرا ہی اک چھلکا ہوا پیمانہ تھا

جو بھی ان کی بزم میں تھا ہوش سے بیگانہ تھا

اختلاف شکل نے دھوکا نگاہوں کو دیا

ورنہ جو کچھ شمع سوزاں تھی وہی پروانہ تھا