چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہِ صفات میں
حسن ہی حسن ہے تمام عشق کی کائنات میں
ایسے بھی وقت آئے ہیں عشق کی واردات میں
مستیاں جھوم جھوم اٹھیں دیدۂ کائنات میں
تُو مِری سرگزشت غم سن کے کرے گا کیا ندیم
وقفِ خلش ہے ہر نفس درد ہے بات بات میں
چشم یقیں سے دیکھیے جلوہ گہِ صفات میں
حسن ہی حسن ہے تمام عشق کی کائنات میں
ایسے بھی وقت آئے ہیں عشق کی واردات میں
مستیاں جھوم جھوم اٹھیں دیدۂ کائنات میں
تُو مِری سرگزشت غم سن کے کرے گا کیا ندیم
وقفِ خلش ہے ہر نفس درد ہے بات بات میں
ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام
چشم ساقی تیری گردش سے ہے پیمانے کا نام
پہلے تھا موج بہاراں دل کے لہرانے کا نام
مسکن برق تپاں ہے اب تو کاشانے کا نام
آس جس کی ابتدا تھی یاس جس کی انتہا
اے دلِ ناکام! کیا ہو ایسے افسانے کا نام
عشق میں خود سری نہیں ہوتی
حسن میں بندگی نہیں ہوتی
ناوک افگن بتا تو دے آخر
درد میں کیوں کمی نہیں ہوتی
راز الفت کہاں چھپائیں ہم
دل سے بھی دشمنی نہیں ہوتی
غم محبت ہے کار فرما دعا سے پہلے اثر سے پہلے
بتا رہی ہے یہ دل کی دھڑکن وہ آ رہے ہیں خبر سے پہلے
یہ کس کے گیسو سے مانگ لائی نسیم نکہت سحر سے پہلے
فضائے گلشن اداس سی تھی شمیم عنبر اثر سے پہلے
بجائے خوں مے جھلک رہی ہے ہماری رگ رگ سے اب تو ساقی
بہت ہی بے کیف زندگی تھی خمار آگیں نظر سے پہلے
ان کی چشمِ مست میں پوشیدہ اک مے خانہ تھا
جام تھا ساغر تھا مے تھی شیشہ تھا پیمانہ تھا
کیا فقط میرا ہی اک چھلکا ہوا پیمانہ تھا
جو بھی ان کی بزم میں تھا ہوش سے بیگانہ تھا
اختلاف شکل نے دھوکا نگاہوں کو دیا
ورنہ جو کچھ شمع سوزاں تھی وہی پروانہ تھا