Showing posts with label خالد ہما. Show all posts
Showing posts with label خالد ہما. Show all posts

Sunday, 25 September 2022

وہ اتنی میٹھی سریلی آواز میں کویتا سنا رہی تھی

 وہ اتنی میٹھی سریلی آواز میں کویتا سنا رہی تھی

کہ آنکھ ملتے ہوئے رات ستاروں کو پھر سے بلا رہی تھی

عجیب یادوں کا یہ اثر تھا کہ خودکشی کر رہی تھیں نیندیں

بکھرتی تعبیریں جوڑنے میں وہ چاندنیاں بجھا رہی تھی

میں ذائقوں کی حدوں سے آگے نکل کے بے ذائقہ ہوا تھا

وہ جب محبت سے میری راتوں کو جگا رہی تھی سُلا رہی تھی

Thursday, 25 August 2022

ایک مصرعہ بھی اگر لکھا گیا

 ایک مصرعہ بھی اگر لکھا گیا

یوں سمجھ لو دن بہت اچھا گیا

کم سِنی، محرومیاں، حساسیت

دل گیا، بچپن گیا، چہرہ گیا

اپنی سب ناکامیاں یاد آ گئیں

نام اس کا جب بھی دہرایا گیا

Monday, 22 August 2022

میں نہیں ہوں تو اذیت ہے اذیت لکھنا

 میں نہیں ہوں تو اذیت ہے اذیت لکھنا

کورے کاغذ پہ محبت نہیں ہجرت لکھنا

جیسے خوشبو کا نہیں قید، مِرے بارے میں

آپ کو کچھ بھی ہے لکھنے کی اجازت لکھنا

زندگی جو بھی ہے ہر شخص کی اپنی رائے

میں اگر جنگ لکھوں،۔ آپ محبت لکھنا

Thursday, 30 June 2022

تیری آنکھیں ستاروں آبشاروں سے سجی آنکھیں

 تیری آنکھیں 


تیری آنکھیں 

ستاروں، آبشاروں سے سجی آنکھیں 

بلوری

بھوری بادامی، کٹاری

شاعری کے بوجھ سے، نظریں چُراتا ہوں

Sunday, 20 March 2022

میں مرد ہو کے بھی رو رہا ہوں

 بھول بُھلیاں


عجیب ہے تجھ سے میرا رشتہ

عجیب تر ہے مِری محبت

تصوراتی سفر رواں ہے

میں کتنے سالوں سے آگے بڑھتا ہی جارہا ہوں

مگر ابھی تک