Sunday, 20 March 2022

میں مرد ہو کے بھی رو رہا ہوں

 بھول بُھلیاں


عجیب ہے تجھ سے میرا رشتہ

عجیب تر ہے مِری محبت

تصوراتی سفر رواں ہے

میں کتنے سالوں سے آگے بڑھتا ہی جارہا ہوں

مگر ابھی تک

انہیں لکیروں میں چہل قدمی ہی ہورہی ہے

بس ایک احساس کی لہر ہے

کہ جس میں، میں بہتا جارہا ہوں

تِری محبت بھی دن بدن تو

شدید ہوتی ہی جارہی ہے

تصوراتی سفر رواں ہے

میں جب بھی آئینہ دیکھتا ہوں

بہت ہی کمزور ایک لڑکا

کہ جس کی پلکوں پہ بس نمی ہے

اور اس کے چہرے پہ آنسوؤں نے

نہ جانے کتنی لکیریں کھینچیں

جو چاہتوں کی پرانی راہوں میں

ایک ملبا نما کھڑا ہے

جو مجھ سے چھوٹا ہے

میرے جیسا ہے

میں نہیں ہوں

تو میری آنکھوں میں اس کی خاطر

رحم کے جذبے ہی پھوٹتے ہیں

اور آئینہ کہہ رہا ہو جیسے

بس ایک لڑکی کے دُور جاتے ہی دیکھیۓ تو

میں مرد ہو کے بھی رو رہا ہوں


خالد ہما

No comments:

Post a Comment