تو لہو میں رواں نہیں ہوتا
جانے کیا کیا گماں نہیں ہوتا
سارے خط ہم جلا کے آئے ہیں
یادوں کا اب دھواں نہیں ہوتا
ان کی بیباکیاں سہی دل نے
ورنہ دل بے زباں نہیں ہوتا
تو لہو میں رواں نہیں ہوتا
جانے کیا کیا گماں نہیں ہوتا
سارے خط ہم جلا کے آئے ہیں
یادوں کا اب دھواں نہیں ہوتا
ان کی بیباکیاں سہی دل نے
ورنہ دل بے زباں نہیں ہوتا
دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے
ایک پل کو زندگانی دے مجھے
چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی
وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے
ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی
آبشاروں سی روانی دے مجھے
کوئی آنسو بہانے آ گیا شاید
اسے میرا تڑپنا بھا گیا شاید
ہنسی میرے لبوں کی جس کو تھی پیاری
مجھے وہ دیکھ کر اکتا گیا شاید
وہ گل جس سے چمن ہر پل مہکتا تھا
وہ زد سے وقت کی مرجھا گیا شاید
وقت کی ناکامیاں ہیں اور کیا
فاصلے اب درمیاں ہیں اور کیا
پوچھتا حاصل زمانہ عشق کا
چاہتوں میں دوریاں ہیں اور کیا
کیوں سبھی میں ڈھونڈتے ہو خوبیاں
خوب صورت خامیاں ہیں اور کیا
تیرے آنے کی خبر دیتی رہی پاگل ہوا
تجھ تلک میری حیا لے کر گئی پاگل ہوا
دھوپ کچی شام تنہا اور اندھیروں کا ہجوم
ان میں اپنا عکس دِکھلاتی چلی پاگل ہوا
دن ڈھلے گھر لوٹ آنا قفل کرنا حسرتیں
کیوں نہیں یہ ختم ہوتا سوچتی پاگل ہوا