Showing posts with label مونیکا سنگھ. Show all posts
Showing posts with label مونیکا سنگھ. Show all posts

Sunday, 13 June 2021

تو لہو میں رواں نہیں ہوتا

 تو لہو میں رواں نہیں ہوتا

جانے کیا کیا گماں نہیں ہوتا

سارے خط ہم جلا کے آئے ہیں

یادوں کا اب دھواں نہیں ہوتا

ان کی بیباکیاں سہی دل نے

ورنہ دل بے زباں نہیں ہوتا

Saturday, 12 June 2021

دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

 دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

ایک پل کو زندگانی دے مجھے

چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی

وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے

ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی

آبشاروں سی روانی دے مجھے

کوئی آنسو بہانے آ گیا شاید

 کوئی آنسو بہانے آ گیا شاید

اسے میرا تڑپنا بھا گیا شاید

ہنسی میرے لبوں کی جس کو تھی پیاری

مجھے وہ دیکھ کر اکتا گیا شاید

وہ گل جس سے چمن ہر پل مہکتا تھا

وہ زد سے وقت کی مرجھا گیا شاید

Sunday, 25 April 2021

وقت کی ناکامیاں ہیں اور کیا

 وقت کی ناکامیاں ہیں اور کیا

فاصلے اب درمیاں ہیں اور کیا

پوچھتا حاصل زمانہ عشق کا

چاہتوں میں دوریاں ہیں اور کیا

کیوں سبھی میں ڈھونڈتے ہو خوبیاں

خوب صورت خامیاں ہیں اور کیا

Friday, 23 April 2021

تیرے آنے کی خبر دیتی رہی پاگل ہوا

 تیرے آنے کی خبر دیتی رہی پاگل ہوا

تجھ تلک میری حیا لے کر گئی پاگل ہوا

دھوپ کچی شام تنہا اور اندھیروں کا ہجوم

ان میں اپنا عکس دِکھلاتی چلی پاگل ہوا

دن ڈھلے گھر لوٹ آنا قفل کرنا حسرتیں

کیوں نہیں یہ ختم ہوتا سوچتی پاگل ہوا