دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے
ایک پل کو زندگانی دے مجھے
چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی
وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے
ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی
آبشاروں سی روانی دے مجھے
بوجھ زخموں کا لیے چلتی رہوں
یاد کی وہ بے کرانی دے مجھے
ہر بلندی سے بنیں راہیں نئی
حوصلے کچھ آسمانی دے مجھے
فخر سے کردار لکھیں گے مِرا
وقت ایسی کامرانی دے مجھے
مونیکا سنگھ
No comments:
Post a Comment