Saturday, 12 June 2021

دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

 دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

ایک پل کو زندگانی دے مجھے

چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی

وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے

ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی

آبشاروں سی روانی دے مجھے

بوجھ زخموں کا لیے چلتی رہوں

یاد کی وہ بے کرانی دے مجھے

ہر بلندی سے بنیں راہیں نئی

حوصلے کچھ آسمانی دے مجھے

فخر سے کردار لکھیں گے مِرا

وقت ایسی کامرانی دے مجھے


مونیکا سنگھ

No comments:

Post a Comment