Saturday, 12 June 2021

چاند تارے بنا کے کاغذ پر

 چاند تارے بنا کے کاغذ پر

خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر

بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں

لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر

جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم

خشک پتا گرا کے کاغذ پر

ہنستے ہنستے مٹا دئیے اس نے

شہر کتنے بسا کے کاغذ پر

ہم نے چاہا کہ ہم بھی اڑ جائیں

ایک چڑیا اڑا کے کاغذ پر

لوگ ساحل تلاش کرتے ہیں

ایک دریا بہا کے کاغذ پر

ناؤ سورج کی دھوپ کا دریا

تھم گئے کیسے آ کے کاغذ پر

خواب بھی خواب ہو گئے عادل

شکل و صورت دکھا کے کاغذ پر


عادل رضا منصوری

No comments:

Post a Comment