عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے سرکار کا مسکن وہاں ہے
"مدینہ رونقِ کون و مکان ہے"
بہت سے انبیاء آئے ہیں، لیکن
کوئی سرکارؐ کے جیسا کہاں ہے
مدینے میں ہیں سرکارِ دو عالمﷺ
مدینہ عظمتوں کا آسماں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے سرکار کا مسکن وہاں ہے
"مدینہ رونقِ کون و مکان ہے"
بہت سے انبیاء آئے ہیں، لیکن
کوئی سرکارؐ کے جیسا کہاں ہے
مدینے میں ہیں سرکارِ دو عالمﷺ
مدینہ عظمتوں کا آسماں ہے
بھیڑ میں گُونگوں کی پہچان بنانے کے لیے
حوصلہ چاہیے آواز اُٹھانے کے لیے
دِین انساں کی بھلائی کے لیے آیا تھا
رہ گیا اب یہ فقط کھانے کمانے کے لیے
پیار کو بُھولنا آسان نہیں ہے صاحب
مُدتیں لگتی ہیں اک شخص بُھلانے کے لیے
بیٹھے بیٹھے پریشانیاں بڑھ گئیں
دل لگایا تو تنہائیاں بڑھ گئیں
پل دو پل کی ملاقات سے کیا ملا
اور بھی دل کی بیتابیاں بڑھ گئیں
تم کو تکنے کا اک فائدہ یہ ہوا
میری آنکھوں کی بینائیاں بڑھ گئیں
یہ بدلتے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے
دستِ احباب میں خنجر نہیں دیکھے جاتے
جن کو محبوب ہو کانٹوں کی تجارت کرنا
ان سے گُلشن کے گُلِ تر نہیں دیکھے جاتے
دیکھے جاتے ہیں فقط فتح مبیں کے سپنے
جنگ میں کٹتے ہوئے سر نہیں دیکھے جاتے