قوتِ خیال
تُو ہر زوائیے سے دیکھ لے
سمجھ لے
قوتِ خیال
شعور کو پلٹ کر کبھی
لا شعور میں ذرا جھانک
قوتِ خیال
تُو ہر زوائیے سے دیکھ لے
سمجھ لے
قوتِ خیال
شعور کو پلٹ کر کبھی
لا شعور میں ذرا جھانک
عشق سے دوچار ہے
زندگی بے کار ہے
جس طرف بھی دیکھئے
درد ہے، آزار ہے
آدمی سے آدمی
آج کل بے زار ہے
اپنی امانت لے جا
اے اجنبی
تُو کچھ یوں اُترا ہے
میرے دل کی گہرائیوں میں
جیسے سیپ میں
بارش کا قطرہ ٹھہر جائے
خواب اور انتظار
وہ سندر سی ایک لڑکی
روز یہی پوچھتی رہتی تھی
آپ کیسے ہیں
ناشتہ کر لیا
کھانا کھا لیا
پت جھڑ
وہ موسمِ بہار کا پھول
اور ہم پر جاری ہے
پت جھڑ کا نزول
اب تو ڈر سا لگتا ہے
ہو نہ جائے پیار کہیں
ایوارڈ
آ تمہیں یہ بتاتا ہوں آج
جیت کر ہار کیسے ہوتی ہے
اپنے سچے خلوص سے مجھ کو
اپنی بانہوں میں تھام لینا تم
اپنی سچی وفائیں سونپ کے پھر
الزام ٹھہرے
تم جھوٹ بول کر
سچ بول نہ سکیں
میں عمرِ رفتہ کا قیدی
سنسار سے ڈر گیا
ہم دونوں بزدل نکلے
آنکھوں کی چوری
میری آنکھیں اسے چرا لیتی ہیں
اس چوری کو
میں اپنے خیالوں میں
چھپا لیتا ہوں
ان خیالوں سے
بددیانت
یہ کتنا بڑا المیہ ہے
ایک بددیانت قوم کا
ایک بددیانت صحافی
بددیانتی کے موضوع پر
بدیانتی کے خلاف
ایک مضمون لکھ رہا تھا
ایک سوال
عمر بھر خامشی سے
سوچتے ہی رہو گے
لگتے ہو ہارے ہارے
تم کبھی کچھ کہو گے
یا یونہی آنسوؤں سے
زندگی کی تھکن
کیا کروں
کیا کہوں
پھنس گیا ہوں
یا کہ بس گیا ہوں
ایک مدّت سے
پرواز
آپ کی میٹھی میٹھی باتیں
یہ پھول خوشبو لفظ
یہ والہانہ اندازِ سپردگی
یہ چاہت، یہ محبّت
مجھے معلوم ہے
سنو
اگر سچ سن سکتے ہو
آنسوؤں میں بہتا
درد سمجھ سکتے ہو
ہم جیت کر دنیا
زندگی ہار گئے
بے جوڑ زندگی
ہمارے معاشرے میں اکثریت
سونے جیسی پنکھڑیاں
سونار کی بجائے
لوہار کے حوالے
کر دیتی ہے
محرومی
زندگی کی تمام خوشیاں
چراغِ محبت سے
روشن ہوتی ہیں
بس یہی محرومی ہے
اور یہ محرومی بھی
جیون کا جیون
جب تم
ذہن میں خیال بنتی ہو
آنکھوں میں خواب بنتی ہو
لبوں پر نام بنتی ہو
دل کی دھڑکنوں میں