الزام ٹھہرے
تم جھوٹ بول کر
سچ بول نہ سکیں
میں عمرِ رفتہ کا قیدی
سنسار سے ڈر گیا
ہم دونوں بزدل نکلے
بزدلوں کو نہ جینے کا حق ہوتا ہے
اور نہ ہی مرنے کا
ہم محبت کیسے کر سکتے ہیں
محبت تو بہادری کا نام ہے
اور ہم بے نام ٹھہرے
اپنی ہی زندگی کا
اپنی ہی زندگی پر
الزام ٹھہرے
احسان سہگل
No comments:
Post a Comment