Tuesday, 23 November 2021

کچھ روز سے مرا بھی نہیں ہے اتا پتا

 کچھ روز سے مِرا بھی نہیں  ہے اتا پتا

اس پر یہ اتفاق کہ وہ بھی ہے لا پتا

جا لوں میں اس کو چشم زدن میں جو چل پڑوں

میں پوچھ لوں تو اس کا بتا دے ہوا پتا

یہ فصلِ گل ہے موسمِ وحشت ہے اس لیے

کب کیسے کتنا کون کہاں کس کو کیا پتا

چھائی ہوئی ہے اب بھی فضاؤں میں نغمگی

گزرا ہے کوئی نام تمہارا الاپتا

لفظوں کا وہ بدن نہ تغزل کا پیرہن

کوئی مدیر کیوں مِری غزلوں کو چھاپتا

اب’حسن ڈاٹ کام‘پہ ہیں دستیاب آپ

ہر بُوالہوس کی جیب میں ہے آپ کا پتا


تسلیم نیازی

No comments:

Post a Comment