Showing posts with label فیضی. Show all posts
Showing posts with label فیضی. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

 جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہُوا اس کا

جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا

کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی

یہیں کہیں پہ مِرا گھر تھا کیا ہوا اس کا

کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں

اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا

Saturday, 14 August 2021

جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے

 جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے

پھر بھی خواہش ہے کہ دیکھو کبھی مل کر مجھ سے

سوچتا کیا ہوں تِرے بارے میں چلتے چلتے

تُو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے

میں یہی سوچ کے ہر حال میں خوش رہتا ہوں

روٹھ جائے نہ کہیں میرا مقدر مجھ سے

Friday, 13 August 2021

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

 اچھا ہے تُو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے

ہاں ٹھیک ہے میں بُھولا ہُوا ہوں جہان کو

لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے

اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات

کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

 کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں، مجھے کیا ہوا

میں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہوا

کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں

اے فراقِ صحبتِ دوستاں! مجھے کیا ہوا

یہ کہاں پڑا ہوں زمیں کے گرد و غبار میں

وہ کہاں گیا مِرا آسماں؟ مجھے کیا ہوا

Wednesday, 11 August 2021

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

 اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں

اس قدر شور تھا مِرے سر میں

اپنی آواز پر رُکا ہی نہیں

بڑی خواہش تھی مجھ کو ہونے کی

ہو گیا ہوں تو کچھ ہُوا ہی نہیں

Saturday, 10 July 2021

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

 رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

یہ مِری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے

میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم

ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے

آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں

اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے