جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہُوا اس کا
جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا
کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی
یہیں کہیں پہ مِرا گھر تھا کیا ہوا اس کا
کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں
اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا
جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہُوا اس کا
جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا
کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی
یہیں کہیں پہ مِرا گھر تھا کیا ہوا اس کا
کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں
اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا
جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے
پھر بھی خواہش ہے کہ دیکھو کبھی مل کر مجھ سے
سوچتا کیا ہوں تِرے بارے میں چلتے چلتے
تُو ذرا پوچھنا یہ بات ٹھہر کر مجھ سے
میں یہی سوچ کے ہر حال میں خوش رہتا ہوں
روٹھ جائے نہ کہیں میرا مقدر مجھ سے
اچھا ہے تُو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے
دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے
ہاں ٹھیک ہے میں بُھولا ہُوا ہوں جہان کو
لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے
اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات
کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے
کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں، مجھے کیا ہوا
میں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہوا
کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں
اے فراقِ صحبتِ دوستاں! مجھے کیا ہوا
یہ کہاں پڑا ہوں زمیں کے گرد و غبار میں
وہ کہاں گیا مِرا آسماں؟ مجھے کیا ہوا
اس لیے دل برا کیا ہی نہیں
زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں
اس قدر شور تھا مِرے سر میں
اپنی آواز پر رُکا ہی نہیں
بڑی خواہش تھی مجھ کو ہونے کی
ہو گیا ہوں تو کچھ ہُوا ہی نہیں
رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے
یہ مِری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے
میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم
ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے
آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے