Wednesday, 11 August 2021

اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

 اس لیے دل برا کیا ہی نہیں

زندگی میرا فیصلہ ہی نہیں

اس قدر شور تھا مِرے سر میں

اپنی آواز پر رُکا ہی نہیں

بڑی خواہش تھی مجھ کو ہونے کی

ہو گیا ہوں تو کچھ ہُوا ہی نہیں

ظلم کرتا ہوں ظلم سہتا ہوں

میں کبھی چین سے رہا ہی نہیں

پڑ گیا ہے خدا سے کام مجھے

اور خدا کا کوئی پتہ ہی نہیں

توڑ ڈالو یہ ہاتھ پاؤں مِرے

جسم کا تو مقابلہ ہی نہیں

تم کہاں ہو ذرا صدا تو دو

اس سے آگے تو راستہ ہی نہیں


فیضی

(محمد فیض)

No comments:

Post a Comment