Wednesday, 11 August 2021

ملیں نہ راستے جب شاہراہوں جیسا ہے

 ملیں نہ راستے جب، شاہراہوں جیسا ہے

ہوا کے قحط میں بھی وہ ہواؤں جیسا ہے

جمالِ یار کی رنگینیاں ہیں شہروں سی

وہ سادگی میں مگر ایک گاؤں جیسا ہے

تھکن بھی جسم کی ساری یہ کھینچ لیتی ہے

زمیں کا لمس بھی کچھ ماں کی بانہوں جیسا ہے

ہمارے ہاتھ میں کچھ ہو کہ یا نہیں بھی ہو

ہمارا دل ہے مگر بادشاہوں جیسا ہے

ملاتا مجھ کو مِرا یار ہے زمانے سے

سمندروں میں بچھی آبناؤں جیسا ہے

سکون ملتا ہے ملتا ہوں اس سے جب بھی حنیف

وہ شورشوں میں چھپی خانقاہوں جیسا ہے


حنیف دیپ

No comments:

Post a Comment