زخموں کا بیوپاری ہے
اچھی ساہو کاری ہے
بوجھل بوجھل پلکوں پر
رات ابھی تک طاری ہے
بس اک پتھر جُھگی کا
شیش محل پر بھاری ہے
زخموں کا بیوپاری ہے
اچھی ساہو کاری ہے
بوجھل بوجھل پلکوں پر
رات ابھی تک طاری ہے
بس اک پتھر جُھگی کا
شیش محل پر بھاری ہے
لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو
ہماری آنکھوں میں کوئی تو خواب رہنے دو
نئے سرے سے چلو کوئی عہد کرتے ہیں
وفا جفا کا پرانا حساب رہنے دو
تمام عمر گزاری ہے ان دیاروں میں
خلوص ہو گا یہاں دستیاب رہنے دو
کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا
مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا
عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو
پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا
مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں
ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا
کوئی گلاب یہاں پر کھلا کے دیکھتے ہیں
چلو خرابۂ جاں کو سجا کے دیکھتے ہیں
جہاں کو بھول کے تم کو بھلا کے دیکھتے ہیں
اب اپنے آپ کو دل سے لگا کے دیکھتے ہیں
بگڑ گئے تھے جسے سن کے وقت کے تیور
جہاں کو بات وہی پھر سنا کے دیکھتے ہیں
کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے
چلتی ہیں کیسے ہوائیں زور سے
بے وفا سارے پرندے ہو گئے
دوستی اپنی بھی تھی اک مور سے
چند جذبے جنگ میں مشغول تھے
رات بھر میں سو نہ پایا شور سے
سُبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے
تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے
سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے
خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے
دُھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں
لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے