Showing posts with label اسلم حبیب. Show all posts
Showing posts with label اسلم حبیب. Show all posts

Friday, 14 April 2023

زخموں کا بیوپاری ہے

 زخموں کا بیوپاری ہے

اچھی ساہو کاری ہے

بوجھل بوجھل پلکوں پر

رات ابھی تک طاری ہے

بس اک پتھر جُھگی کا

شیش محل پر بھاری ہے

Wednesday, 16 February 2022

لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو

 لٹی بہار کا سوکھا گلاب رہنے دو

ہماری آنکھوں میں کوئی تو خواب رہنے دو

نئے سرے سے چلو کوئی عہد کرتے ہیں

وفا جفا کا پرانا حساب رہنے دو

تمام عمر گزاری ہے ان دیاروں میں

خلوص ہو گا یہاں دستیاب رہنے دو

Tuesday, 15 February 2022

کسی کی یاد کا سایہ تھا یا کہ جھونکا تھا

 کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا

مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا

عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو

پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا

مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں

ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا

Sunday, 30 January 2022

کوئی گلاب یہاں پر کھلا کے دیکھتے ہیں

 کوئی گلاب یہاں پر کھلا کے دیکھتے ہیں

چلو خرابۂ جاں کو سجا کے دیکھتے ہیں

جہاں کو بھول کے تم کو بھلا کے دیکھتے ہیں

اب اپنے آپ کو دل سے لگا کے دیکھتے ہیں

بگڑ گئے تھے جسے سن کے وقت کے تیور

جہاں کو بات وہی پھر سنا کے دیکھتے ہیں

Thursday, 27 January 2022

کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے

 کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے

چلتی ہیں کیسے ہوائیں زور سے

بے وفا سارے پرندے ہو گئے

دوستی اپنی بھی تھی اک مور سے

چند جذبے جنگ میں مشغول تھے

رات بھر میں سو نہ پایا شور سے

Wednesday, 26 January 2022

سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے

 سُبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے

تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے

سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے

خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے

دُھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں

لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے