Tuesday, 15 February 2022

کسی کی یاد کا سایہ تھا یا کہ جھونکا تھا

 کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا

مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا

عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو

پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا

مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں

ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا

کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی

لہولہان لبوں پر مِرے بھی نغمہ تھا

میں بچ کے جاتا تو کس سمت کس جگہ کہ مجھے

کہیں زمیں نے کہیں آسماں نے گھیرا تھا

ذرا پکار کے دیکھوں نہ ان دیاروں میں

مِرا خیال ہے اک شخص میرا اپنا تھا

مہک لہو کی تھی یا تیرے پیرہن کی تھی

مِرے بدن سے ہیولیٰ سا ایک لپٹا تھا

اداس گھڑیو!! ذرا یہ پتہ تو دے جاؤ

کہاں گیا وہ خوشی کا جو ایک لمحہ تھا


اسلم حبیب

No comments:

Post a Comment